LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس: عدالت کا بانی پی ٹی آئی کو آئندہ سماعت پر پیش کرنے کا حکم، فرخ حبیب و دیگر اشتہاری قرار گورنر راج اچھا فیصلہ نہیں، آخری حد پر نہیں جانا چاہتے: امیر مقام ریاست مخالف پروپیگنڈے کے خلاف این سی سی آئی اے کے خصوصی یونٹس قائم پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا منفی زون میں آغاز صدر اور وزیراعظم کا قوم کی تعمیر میں اساتذہ کے کردار کو خراج تحسین سری لنکن کرکٹ ٹیم کی پاکستان کیخلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کیلئے پاکستان آمد اچھا استاد معاشرے میں مثبت تبدیلیوں کی بنیاد رکھ سکتا ہے: مریم نواز یمنی وزیر خارجہ کی حوثی ملیشیا کے خلاف فوجی کارروائی کیلئے عالمی حمایت کی اپیل ماہ ستمبر میں جنوبی بلوچستان سے 435 غیر قانونی افغان باشندے گرفتار اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا دورۂ پاکستان، صدر، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم سے ملاقاتیں متوقع مکہ دفاعی اتحاد کی سٹریٹجک کمیٹی کا ہنگامی اجلاس آج، علاقائی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا امریکا نے برطانوی فوجی اڈے سے اپنے تمام بمبار طیارے ہٹا لیے سرکاری حج سکیم کے تحت دوسری قسط کی وصولی کا آغاز 7 اکتوبر کے حملے ہماری ناکامی تھے، سبق سیکھنا ہوگا: سربراہ اسرائیلی فوج دبئی میں بزرگ شہریوں کیلئے نئے ہیریٹیج ولیج منصوبے کا باقاعدہ آغاز

ایران اپنے لیے مشکل یا آسان راستہ اختیار کر سکتا ہے: ٹرمپ

Web Desk

4 October 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری شدید کشیدگی پر اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان درپیش تنازع یا تو آسان راستے سے حل ہو سکتا ہے یا پھر مشکل راستے سے۔ امریکی ریاست اوہائیو کے شہر وینڈالیا میں انتخابی ریلی کے لیے روانگی کے وقت صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ انہیں ایران سے متعلق ایک بڑا حتمی فیصلہ کرنا ہے۔ انہوں نے انتظامیہ کے اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران اس وقت انتہائی کمزور ہو چکا ہے اور وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے بیشتر منصوبے ترک کرنے پر مجبور ہوا ہے، جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم کرنے میں بھی کامیابی ملی ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ نے خبردار کیا ہے کہ ایران کو اپنا جوہری پروگرام رضاکارانہ طور پر ترک کرنے کا سنہری موقع دیا گیا ہے، لیکن اگر اس نے ایسا نہ کیا تو عسکری قوت کے ذریعے مجبور کیا جا سکتا ہے۔ اسی اثناء میں غیر ملکی خبر ایجنسی ‘رائٹرز’ کے مطابق ایران امریکی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے سخت جوابی تیاری کر رہا ہے۔ ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکہ نے دوبارہ بڑے پیمانے پر حملے کیے تو اس کا جواب پہلے سے کہیں زیادہ شدید ہوگا اور امریکی کارروائیوں کی سہولت کاری کرنے والے علاقائی ممالک کو بھی ہدف بنایا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ تہران اپنے جوہری پروگرام کو ہمیشہ مکمل طور پر پرامن اور دفاعی قرار دیتا رہا ہے۔