تاریخ رقم ہوگئی، ایلون مسک 600 ارب ڈالر سے زائد دولت کے مالک بننے والے دنیا کے پہلے شخص
Web Desk
16 December 2025
نیویارک: ٹیکنالوجی اور خلائی صنعت کے بے تاج بادشاہ ایلون مسک دنیا کے پہلے شخص بن گئے ہیں جن کی مجموعی دولت 600 ارب ڈالر کی تاریخی حد سے تجاوز کر گئی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق، مسک کی دولت میں یہ غیر معمولی اضافہ ان کی خلائی کمپنی ‘اسپیس ایکس’ کی بڑھتی ہوئی مالیت کی وجہ سے ہوا۔
اسپیس ایکس کے کچھ ملازمین اور سرمایہ کاروں کی جانب سے حال ہی میں حصص کی فروخت کی گئی، جس کی بنیاد پر کمپنی کی مجموعی مالیت کا تخمینہ لگایا گیا، اور اس تخمینے نے ایلون مسک کے حصص کی قدر میں نمایاں اضافہ کر دیا۔ اسپیس ایکس کی مجموعی قدر تقریباً 800 ارب ڈالر لگائی گئی ہے۔ چونکہ ایلون مسک کمپنی کے تقریباً 40 فیصد حصص کے مالک ہیں، اس لیے ان کی مجموعی دولت کا تخمینہ اب 677 ارب ڈالر لگایا جا رہا ہے۔
ایلون مسک کی دولت کا ایک بڑا حصہ ان کی دو کمپنیوں، ٹیسلا اور اسپیس ایکس، میں موجود حصص سے جڑا ہوا ہے۔ رواں برس اب تک ٹیسلا کے شیئرز میں 13 فیصد کا اضافہ ہو چکا ہے۔ پیر کے روز کمپنی کے حصص میں تقریباً 4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جب مسک نے اعلان کیا کہ ٹیسلا روبوٹک گاڑیوں کی آزمائش کر رہی ہے، جن میں اگلی نشست پر سکیورٹی نگرانی کے لیے اسکرین موجود نہیں ہو گی۔
یاد رہے کہ گزشتہ نومبر میں ٹیسلا کے شیئر ہولڈرز نے ایلون مسک کے لیے ایک ٹریلین ڈالر مالیت کا ایک معاوضہ پیکیج بھی منظور کیا تھا، جسے کارپوریٹ تاریخ کا سب سے بڑا معاوضہ پیکیج قرار دیا جا رہا ہے۔
متعلقہ عنوانات
حکومت نے عوام پر معاشی دہشت گردی مسلط کر رکھی ہے: حافظ نعیم الرحمان
11 October 2026
خیبر پختونخوا پولیس میں بڑے پیمانے پر تبادلے اور تقرریاں، 18 افسران تبدیل
11 October 2026
سہیل آفریدی حفاظتی تحویل میں ہیں، گرفتار نہیں کیا گیا: عطا تارڑ
11 October 2026
ریاض ایئرپورٹ کے ٹرمینل 4 پر میزائل حملہ، آگ بھڑک اٹھی
11 October 2026
کے پی کو مزید تجربہ گاہ بنانا بند کیا جائے، گورنر راج کا نفاذ جمہوری عمل پر ضرب ہے: اسد قیصر
11 October 2026
خیبرپختونخوا ایڈوائزری کونسل کا پہلا اجلاس، عوام کو دہشتگردی نے نجات دلائیں گے: گورنر
11 October 2026
میناب سکول حملے میں 168 افراد شہید ہوئے، امریکا کو جواب دہ بنائیں گے: ایران
11 October 2026
خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو مسترد کرتے ہیں: مولانا فضل الرحمان
11 October 2026