LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسلام آباد پولیس کی 10 بکتر بند گاڑیاں کے پی منتقل چاند نظر آگیا، پاکستان میں کل یکم جمادی الاول ہوگی صوبے کو انتشار نہیں خدمت کی ضرورت ہے، مریم نواز کی خیبر پختونخوا حکومت پر تنقید وزیراعظم نے خیبر پختونخوا کے امور کی نگرانی کیلئے 11 رکنی مانیٹرنگ کمیٹی قائم کر دی ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری خلیجی ممالک دیکھ چکے امریکی نام نہاد سکیورٹی چھتری کتنی مؤثر ہے: ایران ہماری پالیسی اسلام آباد سے آئے گی، کابل، قندھار اور جلال آباد سے نہیں: فیصل کریم کنڈی وزیراعظم کا ایس ایم ایز کیلئے قرضوں کا حجم 2028 تک 2.2 ٹریلین روپے کرنے کا حکم خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں امن و ترقی کیلئے فنڈز کی فوری فراہمی کا فیصلہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نفاذ کے خلاف سینیٹ میں قرارداد جمع صدر زرداری کی سیکریٹری خارجہ سے ملاقات، عالمی تعلقات مضبوط بنانے پر زور ترکی میں مسافر بس اور ٹرک میں تصادم، 11 افراد ہلاک، 27 زخمی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے برازیلی فوجی وفد کی ملاقات، دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق ایمرجنسی کا نفاذ تحریک انصاف کی ضد اور عدم تعاون کا نتیجہ ہے: طارق فضل چودھری وزیر خزانہ کی سربراہ ای ایس سی اے پی سے ملاقات، معاشی اصلاحات پر گفتگو

سہیل آفریدی حفاظتی تحویل میں ہیں، گرفتار نہیں کیا گیا: عطا تارڑ

Web Desk

11 October 2026

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے انکشاف کیا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ وہ فی الوقت حفاظتی تحویل میں ہیں، جبکہ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد خیبر پختونخوا اسمبلی کی حیثیت معطل ہو چکی ہے۔ ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی قیادت کے طالبان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ روابط کے شواہد موجود ہیں اور سہیل آفریدی نے اپنے دوروں کے دوران دہشت گردوں سے اپنے بندوں کا خیال رکھنے کی بات کی، جس سے امن و امان کو شدید خطرات لاحق ہوئے۔ عطا تارڑ نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کا گورنر ہاؤس کو آگ لگانے اور توڑ پھوڑ کا منصوبہ عوام کی عدم شرکت کے باعث ناکام ہو گیا، جبکہ شفیع جان بھی فرار ہو چکے ہیں۔ انہوں نے صوبے میں ان ہاؤس تبدیلی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ منگل کو قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا جا رہا ہے اور کے پی کے میں ایک نیا انتظامی سیٹ اپ مہارت کے ساتھ امور چلائے گا۔