LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج مسائل کا حل نہیں، جمہوریت دشمنی کا سفر جاری ہے: حافظ نعیم الرحمان خیبر پختونخوا کے حکومتی امور سے متعلق وفاقی حکمنامہ جاری، 11 رکنی مشاورتی کونسل قائم خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا فیصلہ آسان نہیں تھا: محسن نقوی وفاقی دارالحکومت میں ریڈ الرٹ جاری: حساس عمارتوں پر رینجرز تعینات، دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر گرفتاریوں کا حکم پختونخوا میں ایمرجنسی: اڈیالہ جیل کے اطراف میں سکیورٹی ہائی الرٹ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد جے یو آئی کی کور کمیٹی کا اہم اجلاس طلب؛ مولانا فضل الرحمان میڈیا بریفنگ دیں گے کے پی میں بڑا بیوروکریٹک الٹ پھیر: پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے 15 اعلیٰ افسران کے صوبے سے تبادلے، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت قانون ہاتھ میں لینے والوں کیخلاف سخت کارروائی ہوگی: گورنر خیبر پختونخوا ایمرجنسی کے بعد پہلا نوٹیفکیشن، فخر عالم چیف سیکرٹری کے پی تعینات ایمرجنسی قابل مذمت، فیصلے کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے: بیرسٹر گوہر خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ، صدرِ مملکت نے منظوری دے دی آئی ایم ایف معاہدہ اور معاشی استحکام بڑی کامیابی؛ سعودی عرب کے خلاف جارحیت کا کوئی جواز نہیں: وزیراعظم شہباز شریف سکیورٹی فورسز نے افغانستان سے اسلحہ سمگلنگ کی کوشش ناکام بنا دی وفاقی کابینہ نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی منظوری دے دی پاکستان کی ریاض پر حوثی حملے کی مذمت، سعودی خودمختاری کے تحفظ کا عزم

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا فیصلہ آسان نہیں تھا: محسن نقوی

Web Desk

11 October 2026

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ آسان نہیں تھا اور صوبائی حکومت کو ساتھ ملانے کے لیے ایک ماہ سے زائد عرصے تک کوششیں کی گئیں۔ وفاقی وزیر داخلہ نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے دوران مسودے پر مکمل اتفاق کے باوجود اچانک نیا مسودہ پیش کر دیا گیا، جس کے باعث تمام کوششیں ناکام ہوئیں۔ اس موقع پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں 200 فیصد اضافہ ہو چکا تھا جس کے بعد آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت اقدام ضروری ہو گیا تھا؛ انہوں نے بتایا کہ ایمرجنسی کی توثیق کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جا رہا ہے اور گورنر کی معاونت کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل کی تجویز دی گئی ہے۔ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے موقف اختیار کیا کہ کے پی کے انتظامی حالات تباہی کے دہانے پر تھے اور پی ٹی آئی انسدادِ دہشت گردی کے معاملے پر غیر سنجیدہ رہی، جس کے بعد صوبائی حکومت کو غیر فعال کر کے آئینی طریقہ کار اپنایا گیا۔

متعلقہ عنوانات