LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران، امریکا اختلافات برقرار، جنگ بندی میں توسیع اور ابتدائی ڈیل کی امید آبنائے ہرمز کی بحالی : پاسدارانِ انقلاب کی جہازوں کے لیے نئی شرائط پاکستان اور ارجنٹائن فٹبال ٹیموں کے درمیان فرینڈلی میچ کی تیاریاں وزیراعظم نے ڈیزل کی قیمت میں 32روپے12پیسے فی لٹرکمی کی منظوری دے دی ایران کا آبنائے ہرمزمکمل طورپر کھولنے کا اعلان ، وزیر خارجہ عراقچی کابڑا اعلان وزیراعظم اور ترک صدرکی ملاقات، اسٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط بنانے کا عزم پاکستان کاشکریہ، وزیراعظم اور فیلڈمارشل زبردست شخصیات ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدرکا آبنائے ہرمز مکمل کھولنے پر ایران کا شکریہ، بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان آبنائے ہرمزکھلنے کے ثمرات، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں بڑی کمی انطالیہ میں وزیراعظم سے امریکی صدرکے سینئر مشیرکی ملاقات پاکستانی پرچم والے آئل ٹینکر نےآبنائے ہرمز عبورکرلی، امریکی جریدے کی رپورٹ پن بجلی کی پیداوار میں اضافہ ،لوڈ شیڈنگ میں کمی ہوئی ہے: پاور ڈویژن کا دعویٰ صدر آصف زرداری کا لبنان جنگ بندی کا خیرمقدم، خطے میں امن مذاکرات پر زور فیصل کریم کنڈی سے برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیراعظم شہباز شریف کا لبنان میں جنگ بندی کا خیرمقدم، صدر ٹرمپ کی سفارتی کوششوں کی تعریف

ایرانی ریال کی قدر میں تاریخی کمی، ایک امریکی ڈالر 13 لاکھ ریال تک پہنچ گیا

Web Desk

16 December 2025

تہران: ایرانی کرنسی ریال کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں ریکارڈ نچلی سطح پر آ گئی ہے، جس کے بعد ایک امریکی ڈالر اب 13 لاکھ ایرانی ریال کے برابر ہو گیا ہے۔ ملک کو درپیش یہ مالیاتی بحران گزشتہ دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، ایرانی کرنسی کی قدر میں مسلسل کمی کا یہ رجحان امریکہ کی جانب سے 2018 میں جوہری معاہدے سے یکطرفہ علیحدگی اختیار کرنے اور ملک پر سخت پابندیاں عائد کرنے کے بعد شروع ہوا تھا۔

یاد رہے کہ 2015 میں جب ایران کا عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدہ طے پایا تھا، تو اس وقت ایک امریکی ڈالر صرف 32,000 ایرانی ریال کے برابر تھا۔ تاہم، پابندیوں کے بعد صورتحال تیزی سے بگڑتی چلی گئی۔ تین دسمبر 2025 کو ایک امریکی ڈالر 12 لاکھ ایرانی ریال کا تھا، اور محض دو ہفتوں کے اندر یہ شرح مزید گر کر 13 لاکھ ریال تک پہنچ چکی ہے۔

کرنسی کی قدر میں اس تباہ کن کمی کی وجہ سے ایرانی عوام کو شدید افراطِ زر اور روزمرہ زندگی کے اخراجات میں بے تحاشا اضافے جیسے سنگین معاشی مسائل کا سامنا ہے۔