LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران، امریکا اختلافات برقرار، جنگ بندی میں توسیع اور ابتدائی ڈیل کی امید آبنائے ہرمز کی بحالی : پاسدارانِ انقلاب کی جہازوں کے لیے نئی شرائط پاکستان اور ارجنٹائن فٹبال ٹیموں کے درمیان فرینڈلی میچ کی تیاریاں وزیراعظم نے ڈیزل کی قیمت میں 32روپے12پیسے فی لٹرکمی کی منظوری دے دی ایران کا آبنائے ہرمزمکمل طورپر کھولنے کا اعلان ، وزیر خارجہ عراقچی کابڑا اعلان وزیراعظم اور ترک صدرکی ملاقات، اسٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط بنانے کا عزم پاکستان کاشکریہ، وزیراعظم اور فیلڈمارشل زبردست شخصیات ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدرکا آبنائے ہرمز مکمل کھولنے پر ایران کا شکریہ، بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان آبنائے ہرمزکھلنے کے ثمرات، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں بڑی کمی انطالیہ میں وزیراعظم سے امریکی صدرکے سینئر مشیرکی ملاقات پاکستانی پرچم والے آئل ٹینکر نےآبنائے ہرمز عبورکرلی، امریکی جریدے کی رپورٹ پن بجلی کی پیداوار میں اضافہ ،لوڈ شیڈنگ میں کمی ہوئی ہے: پاور ڈویژن کا دعویٰ صدر آصف زرداری کا لبنان جنگ بندی کا خیرمقدم، خطے میں امن مذاکرات پر زور فیصل کریم کنڈی سے برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیراعظم شہباز شریف کا لبنان میں جنگ بندی کا خیرمقدم، صدر ٹرمپ کی سفارتی کوششوں کی تعریف

افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی اسلحہ پاکستان میں دہشتگردی کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ قرار

Web Desk

15 December 2025

افغانستان میں امریکی انخلا کے بعد چھوڑا گیا بھاری مقدار میں فوجی اسلحہ پاکستان میں دہشتگردی کے پھیلاؤ کا ایک سنگین اور خطرناک سبب بن چکا ہے۔ بین الاقوامی جریدے دی ڈپلومیٹ کی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2021 میں امریکی افواج کے انخلا کے دوران تقریباً 7.1 ارب ڈالر مالیت کا فوجی سازوسامان افغانستان میں رہ گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق اس اسلحے میں چار لاکھ 27 ہزار سے زائد ہلکے ہتھیار، نائٹ ویژن ڈیوائسز، تھرمل آلات اور دیگر جدید جنگی سازوسامان شامل تھا۔ دی ڈپلومیٹ کا کہنا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع نے بھی تصدیق کی ہے کہ یہ جدید آلات طالبان کے قبضے میں چلے گئے، جو اب ان کی بنیادی عسکری طاقت کا حصہ بن چکے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2021 میں طالبان نے تقریباً 10 لاکھ کے قریب فوجی سازوسامان پر قبضہ کیا تھا، تاہم طالبان نمائندوں کے مطابق اس ذخیرے کا کم از کم نصف حصہ اب لاپتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اسلحہ فروخت، اسمگل یا ضائع ہو چکا ہے، جس سے خطے میں سلامتی کے خطرات کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔

دی ڈپلومیٹ کے مطابق کابل اور قندھار میں اسلحے کی غیر قانونی منڈیاں اس پھیلاؤ کی واضح مثال بن چکی ہیں، جبکہ یہ ہتھیار سرحد پار شدت پسند گروہوں تک بھی پہنچ رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس صورتحال کے سب سے زیادہ فوری اور مہلک اثرات پاکستان کو درپیش ہیں۔

جدید ہتھیاروں تک رسائی کے بعد کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے حملوں کی شدت اور مہارت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پاکستان میں ضبط کیے گئے متعدد ہتھیاروں کے سیریل نمبر افغان فورسز کو فراہم کیے گئے امریکی ہتھیاروں سے مطابقت رکھتے ہیں۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ زمینی حملوں کے ساتھ ساتھ ڈرونز اور مسلح کواڈ کاپٹرز کے استعمال کے خطرات بھی بڑھ چکے ہیں، جبکہ نائٹ ویژن اور تھرمل صلاحیتوں نے دہشتگردوں کی کارروائیوں کو مزید مہلک بنا دیا ہے۔

دی ڈپلومیٹ کے مطابق پاک فوج دہشتگردی کے خلاف فرنٹ لائن پر بھرپور مزاحمت کر رہی ہے، تاہم رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی کو کابل کی ڈی فیکٹو اتھارٹیز سے لاجسٹک اور ٹھوس معاونت ملتی رہی ہے۔ افغانستان میں شدت پسندوں کے محفوظ ٹھکانے اور اسلحے کی کھلی دستیابی پاکستان کے لیے ایک سنگین چیلنج بنی ہوئی ہے۔

رپورٹ کے اختتام پر عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ افغانستان میں اسلحے کے غیر قانونی پھیلاؤ اور دہشتگردی کے خطرات پر فوری اور مؤثر توجہ دی جائے۔ ہتھیاروں کی ٹریکنگ، غیر قانونی اسلحہ منڈیوں کے خلاف کارروائی اور طالبان پر دباؤ کو خطے کے امن و استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔