LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
شہداء کی عظیم قربانیاں قوم کیلئے مشعلِ راہ، لہو رائیگاں نہیں جائے گا: صدر، وزیراعظم امریکی رکن کانگریس الہان عمر پر سرکہ پھینکنے والے شخص کو سزا سنا دی گئی طاقت اور دباؤ سے مطالبات منوانے کا یک طرفہ نظام ختم ہو چکا، باقر قالیباف چین نے مشرق وسطیٰ و افریقہ میں فوجی سرگرمیوں کی نگرانی کی اپنی صلاحیت بڑھا لی پارلیمانی انتخابات کے حتمی نتائج: سویڈن کے وزیراعظم نے استعفیٰ دیدیا اقوام متحدہ کا اجلاس: فلسطینی صدر کو ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کی اجازت مل گئی حوثیوں کے حملے: عرب ممالک اور یورپی یونین کا سعودیہ سے مکمل اظہار یکجہتی حکومت مطالبات ماننے کو تیار نہیں، 20 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کریں گے: حافظ نعیم الرحمان یورپی یونین کا یوکرین کو 3.3 ارب یورو فراہم کرنے کا اعلان کینیڈا اور یورپ کو قریبی اتحاد قائم کرنا چاہئے: وزیراعظم مارک کارنے کا مطالبہ ایرانی حکومت کا تختہ الٹ دیں گے، حزب اللہ کو بھی ختم کیا جائے گا: نیتن یاہو امریکا نے ایرانی رہنماؤں کو ویزے جاری کرنے کی منظوری دیدی چین کا ایران سے حوثیوں پر اثرو رسوخ استعمال کرنے کا مطالبہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کیلئے کسی بھی حد تک جائے گا: ڈی جی آئی ایس پی آر امریکا کی سعودی عرب کو 48 جدید ایف 35 جنگی طیارے فروخت کرنے کی منظوری

چین کا ایران سے حوثیوں پر اثرو رسوخ استعمال کرنے کا مطالبہ

Web Desk

18 September 2026

چین نے خطے کی صورتحال اور خصوصاً سعودی عرب کی باضابطہ درخواست پر ایران سے رابطہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یمن کے حوثی باغیوں پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے تاکہ بحیرہ احمر (Red Sea) اور باب المندب میں پیدا ہونے والی کشیدگی اور بحری جہاز رانی کو درپیش خطرات کو کم کیا جا سکے۔ عالمی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق بیجنگ نے تہران پر زور دیا ہے کہ وہ اس اہم بین الاقوامی سمندری راستے پر امن اور محفوظ آمد و رفت کی بحالی میں اپنا مثبت اور فعال کردار ادا کرے۔

چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے سرکاری طور پر تمام فریقین کو صبر و تحمل، مذاکرات، اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کی آزادانہ اور محفوظ نقل و حرکت کی بحالی کا مشورہ دیا ہے۔ بیجنگ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ چین کسی صورت یہ نہیں چاہتا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور نادیدہ جنگ مزید پھیلے اور یمن یا بحیرہ احمر کو اپنے لپیٹ میں لے۔ چینی حکام نے تمام ممالک کی علاقائی خودمختاری اور تنازعات کو جنگ کے بجائے صرف پرامن سفارتی گفتگو اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے اصولی موقف کو دہرایا ہے۔