LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کوہاٹ پولیس لائنز مسجد حملے میں شہید ہونے والوں کی نماز جنازہ ادا تحریک تحفظ آئین کا اجلاس، 27 ستمبر کا احتجاج ملک بھر میں پھیلانے کا فیصلہ وزیراعظم خصوصی ریلیف سکیم کا پورے پاکستان میں کامیاب اجرا پٹرولیم لیوی ختم نہ ہوئی تو 20 ستمبر سے سپر لانگ مارچ ہوگا: حافظ نعیم الرحمان حکومت تحریک انصاف کو سپیس دینے کیلئے تیار نہیں: فواد چودھری لندن سے بنگلادیش جانیوالی پرواز میں مسافروں کے درمیان جھگڑے کی ویڈیو وائرل امریکا میں تربیتی مشق کے دوران ایف 16 طیارہ گر کر تباہ اسلام آباد میں احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر پولیس اہلکاروں کی چھٹیوں پر پابندی اسلام آباد میں احتجاج سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں: محسن نقوی پٹرول کی قیمت میں اضافہ عوام کی مشکلات بڑھا رہا ہے، گورنر خیبر پختونخوا کوہاٹ پولیس لائنز میں دھماکہ،15افراد شہید،25 افراد زخمی اسلام آباد ہائیکورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا؛ بنیادی حقوق پر آئینی توازن قائم رکھنے کا حکم ایران سے ڈیل ہو نہ ہو، جنگ میں جیت امریکا کی ہوگی: ٹرمپ چھوٹے کاروباروں کے لیے شریعہ کمپلائنٹ ڈیجیٹل فنانسنگ کی منظوری پاکستان کے عوام کی بدحالی کسی بھی سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں: حافظ نعیم الرحمان

نئی کفایت شعاری مہم، سرکاری فیول میں 50 فیصد کٹوتی، غیرملکی دوروں، خریداری پر پابندی

Web Desk

17 September 2026

وفاقی حکومت نے ملکی معیشت پر دباؤ کم کرنے، پٹرولیم مصنوعات کی بچت اور سرکاری اخراجات میں نمایا ں کمی لانے کے لیے ایک وسیع النطاق ‘کفایت شعاری پالیسی’ کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ جاری کردہ نوٹیفکیشن کے تحت تمام سرکاری گاڑیوں کے ایندھن (فیول) کے استعمال میں فوری طور پر 50 فیصد کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاہم مسلح افواج، سول آرمڈ فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں، ایف بی آر اور ضروری ایمرجنسی خدمات کی آپریشنل گاڑیوں کو اس پابندی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی تمام سرکاری محکموں میں نئی گاڑیوں اور آئی ٹی اشیا کے علاوہ دیگر تمام پائیدار اشیا کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

کفایت شعاری پالیسی کے تحت تمام سرکاری حکام، وزرا اور مشیروں کے غیر ملکی دوروں پر تین ماہ کے لیے مکمل پابندی رہے گی، جبکہ ناگزیر صورتِ حال میں بیرونِ ملک سفر صرف ‘اکانومی کلاس’ میں ہی ممکن ہو سکے گا۔ سرکاری اجلاسوں کے لیے ہالز کے بجائے ‘ویڈیو کانفرنسنگ’ کو ترجیح دینے، غیر ملکی وفود کے علاوہ ہر قسم کے سرکاری عشائیوں، فنڈز سے ہونے والے سیمینارز اور کانفرنسز پر بھی مکمل پابندی لگا دی گئی ہے۔ مزید برآں، نان ایمپلائز اخراجات میں پورے مالی سال کے لیے ماہانہ بنیادوں پر 5 فیصد کٹوتی نافذ کر دی گئی ہے، جبکہ عام شہریوں کے لیے شادی کی تقریبات میں صرف ‘ایک ڈش’ پیش کرنے کا قانون نافذ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

توانائی کی بچت کے لیے حکومت نے تجارتی مراکزی کے اوقات کار بھی محدود کر دیے ہیں۔ نوٹیفکیشن کے مطابق عام دکانیں، مارکیٹیں اور شاپنگ مالز رات 9 بجے، شادی ہالز رات 10 بجے اور تمام ریسٹورنٹس و کیفے رات 11 بجے بند کرنے کے پابند ہوں گے (ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری مستثنیٰ ہوگی)۔ تاہم، عوامی سہولت کے پیشِ نظر فارمیسیز، ہسپتال، کلینکس، پٹرول پمپس، بیکریز، دودھ کی دکانیں اور جِم وغیرہ کو ان سخت اوقاتِ کار سے مکمل استثنیٰ حاصل رہے گ