LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا میں تربیتی مشق کے دوران ایف 16 طیارہ گر کر تباہ اسلام آباد میں احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر پولیس اہلکاروں کی چھٹیوں پر پابندی اسلام آباد میں احتجاج سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں: محسن نقوی پٹرول کی قیمت میں اضافہ عوام کی مشکلات بڑھا رہا ہے، گورنر خیبر پختونخوا کوہاٹ پولیس لائنز میں دھماکہ،15افراد شہید،25 افراد زخمی اسلام آباد ہائیکورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا؛ بنیادی حقوق پر آئینی توازن قائم رکھنے کا حکم ایران سے ڈیل ہو نہ ہو، جنگ میں جیت امریکا کی ہوگی: ٹرمپ چھوٹے کاروباروں کے لیے شریعہ کمپلائنٹ ڈیجیٹل فنانسنگ کی منظوری پاکستان کے عوام کی بدحالی کسی بھی سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں: حافظ نعیم الرحمان حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ فورسز میں لڑائی، 24 گھنٹوں میں 68 ہلاکتیں اسحاق ڈار سے ترک سفیر، برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقاتیں، علاقائی صورتحال پر مشاورت پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مثبت رجحان کا سلسلہ برقرار وزیراعظم کا زرمبادلہ کے ذخائر تاریخی سطح 21.4 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اظہارِ تشکر میر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن کا سینئر پولیس افسران سے تحریری جواب لینے کا فیصلہ جماعت اسلامی نے لاہور مال روڈ دھرنا 33 روز بعد ختم کر دیا

سپریم کورٹ: ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی سزائیں معطل، ضمانت پر رہائی کا حکم

Web Desk

17 September 2026

سپریم کورٹ نے معروف وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ ایڈووکیٹ کی سزا معطلی کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے دونوں کی سزائیں معطل کر دیں اور اسلام آباد ہائی کورٹ کا حتمی فیصلہ آنے تک ۲,۰۰,۰۰۰ (دو لاکھ) روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہائی کا حکم دے دیا ہے۔ جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے درخواستوں پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران جسٹس نعیم اختر افغان نے اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ “دونوں وکیل ہیں، ہم ان کی عزت رکھ رہے ہیں، انہیں بھی کہیں کہ عدالت کے ڈیکورم کا خیال رکھیں، ایک وکیل اور عام آدمی میں فرق ہوتا ہے”۔

سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل فیصل صدیقی نے موقف اپنایا کہ سپریم کورٹ نے ۱۲ مئی کو اسلام آباد ہائیکورٹ کو سزا معطلی کی درخواستوں پر ۲ ہفتوں میں فیصلہ کرنے کی ہدایت کی تھی، تاہم ۲۶ مئی کی مقررہ مدت گزرنے کے باوجود معاملہ التوا کا شکار رہا اور ہائیکورٹ میں کیس بار بار ملتوی ہوتا رہا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ہائیکورٹ رجسٹرار آفس نے جلد سماعت کی درخواست بھی مسترد کر دی تھی۔ دلائل کے دوران سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے ریمارکس کا حوالہ دیا گیا کہ کیس صرف جج یا وکیل کے انتقال پر ملتوی ہونا چاہیے۔ ہائیکورٹ کے التوا پر وکیل کے تعجب کا اظہار کرنے پر بینچ کے رکن جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ “آج کل سرپرائزز کا ہی دور ہے”۔

واضح رہے کہ اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے ۲۴ جنوری ۲۰۲۶ء کو سوشل میڈیا پوسٹس کے مقدمے میں ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو پیکا (PECA) کی مختلف دفعات کے تحت مجموعی طور پر ۱۷، ۱۷ سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی تھی۔ اس فیصلے کے خلاف ۷ فروری ۲۰۲۶ء کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا تھا، جہاں سے ریلیف نہ ملنے اور التوا کے باعث درخواست گزاروں نے دوبارہ سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا، جس پر اعلیٰ عدالت نے سزائیں معطل کرتے ہوئے دونوں کو ضمانت پر رہا کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔