LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سعودی اتحادی افواج کا حوثیوں پر مدینہ منورہ کے طیبہ گرڈ سٹیشن پر ڈرون حملے کا الزام روس کا جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، کریملن دریائے سندھ کا پانی پینے کے قابل نہیں رہا: محکمہ آبپاشی نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ٹرمپ کیساتھ اچھے تعلقات، یوکرین تنازع حل کرنے کیلئے کوششوں پر شکرگزار ہیں: صدر پوتن کراچی ایئرپورٹ پر کسٹمز کی کارروائی، 60 لاکھ روپے کا سامان برآمد ملکی زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا اضافہ ستمبر میں مہنگائی 1.27 فیصد بڑھ گئی، سالانہ شرح 10.26 فیصد ریکارڈ فیول سبسڈی سکیم سے 75 لاکھ سے زائد شہری مستفید، وزیراعظم نے حکومتی اقدامات کو سراہ لانگ مارچ معاملہ: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان براہ راست رابطہ نابلس میں سیکڑوں اسرائیلی قبضہ گیروں کا حضرت یوسفؑ کے مزار پر حملہ ایپسٹین سے روابط ، ناروے کے وزیراعظم سمیت 11 وزراء پارلیمنٹ میں طلب برطانیہ کے عجائب گھروں میں غیر ملکی سیاحوں کا داخلہ مفت حکومت بزرگ شہریوں کی فلاح وبہبود کیلئے اقدامات کر رہی ہے: مریم نواز مصر: 1700 سال قدیم پراسرار مقبرہ دریافت حکومت نے پٹرول کی قیمت میں اضافہ، ڈیزل سستا کر دیا

علیمہ خان کی فرد جرم کی کارروائی چیلنج کرنے کی درخواست خارج

Web Desk

15 December 2025

علیمہ خان نے 26 نومبر کے احتجاج پر درج مقدمہ کی سماعت میں فرد جرم کی کارروائی چیلنج کرنے کی درخواست دائر کی جسے عدالت نے فریقین کا مؤقف سن کر خارج کر دیا۔

انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی میں 26 نومبر کے احتجاج پر مقدمے کی سماعت جج امجد علی شاہ نے کی، علیمہ خان اپنے وکیل فیصل ملک کے ہمراہ پیش ہوئیں اور مؤقف اپنایا کہ فرد جرم ملزمہ کی موجودگی میں عائد نہیں کی گئی۔وکیل فیصل ملک نے عدالت کو بتایا کہ قانون کے مطابق فرد جرم کے وقت ملزم کا موجود ہونا ضروری ہے، قانون کے مطابق فرد جرم پر ملزم کے دستخط ہونا لازمی ہے، ملزمہ اور وکلاء صفائی کو فرد جرم کی کاروائی بارے میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا۔پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے آگاہ کیا کہ عدالت نے 15 اکتوبر کو ملزمان پر فرد جرم عائد کی ، دو ماہ تک وکلاء صفائی کو فرد جرم کی کاروائی کو چیلنج کرنا یاد نہیں آیا، فرد جرم کی کاروائی کو چیلنج کرنا ٹرائل میں رخنہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ظہیر شاہ نے مزید کہا کہ ملزمہ اور ان کے وکیل جان بوجھ کر تاخیری حربے استعمال کررہے ہیں، ملزمہ کو بار بار مواقع دیئے گئے ہیں، دو ماہ تک کسی ملزم نے کسی عدالت میں فرد جرم کی کاروائی چیلینج نہیں کی، فرد جرم قانون کے مطابق اور درست عائد ہوئی ہے۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد علیمہ خان کی درخواست خارج کردی، عدالت نے گزشتہ سماعت پر تاخیر سے عدالت پہنچنے پر تمام عدالتی احکامات واپس لے لئے، عدالت نے گزشتہ سماعت پر علیمہ خان کے تاخیر سے پہنچنے پر ان کی حاضری قبول کرلی۔

پی ٹی آئی کے رہنما علیمہ خان نے انسداد دہشت گردی عدالت اڈیالہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتوں میں اخلاقی اقدار کا جنازہ نکل رہا ہے اور جھوٹے گواہان پیش کیے جا رہے ہیں۔علیمہ خان نے بتایا کہ منگل کو اڈیالہ میں ان کی ملاقات بانی پی ٹی آئی سے ہوتی ہے اور وہ عدالت میں بانی کی رہائی کے لیے موجود رہیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو بھی بانی کی رہائی چاہتا ہے وہ ان کی ٹیم کا حصہ ہے اور بانی پی ٹی آئی کی ٹیم ہی ان کی ٹیم ہے۔رہنما نے دعویٰ کیا کہ علیمہ خان اور بشری بی بی گروپ کے بارے میں پھیلائے جانے والے الزامات ایجنسیوں کا پروپیگنڈا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے ان پر واٹر کینن استعمال کیا گیا لیکن اس کے باوجود وہ اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔صحافی کے سوال پر کہ آیا ان کے اور ایجنسیوں کے روابط ہیں، علیمہ خان نے جواب دیا کہ “یہ سب ہماری اپنی ایجنسیاں ہیں، ملاقات نہیں کرواتے، پانی پھینک دیتے ہیں”۔انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے اور سوشل میڈیا پر آنے والی تصویر پر ان کا خیال ہے کہ وہ پرانی مگر اصل تصویر ہے۔