LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پنجاب میں 13 سے 17 ستمبر تک دفعہ 144 نافذ، اجتماعات اور مظاہروں پر پابندی پڑوسی ممالک ایران پر حملوں کے لیے اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے دیں: پزشکیان مصطفیٰ کمال جس دن مناظرے کا کہیں، میں تیار ہوں: مرتضیٰ وہاب عمان مذاکرات کا کسی صورت یہ مطلب نہیں کہ آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی: عراقچی حنا جاوید قتل کیس: مقتولہ کے بھائی کا قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کو فوری مداخلت کیلیے دوسرا خط نئے صوبوں کا معاملہ قومی مشاورت سے حل ہونا چاہیے: چودھری شجاعت حسین افغانستان پاکستان کیخلاف دہشت گردی کا اہم مرکز بن چکا ہے: واشنگٹن پوسٹ یمن میں حکومتی فورسز اور حوثی جنگجوؤں میں جھڑپوں سے 76 ہزار افراد بے گھر روسی حملوں میں شدت، رواں سال انتہائی مشکل موسم سرما کا سامنا ہو سکتا ہے: یوکرینی حکام ورلڈ الٹیمیٹ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ، ارشد ندیم میڈل کی دوڑ سے باہر 20 ستمبر کا لانگ مارچ ملکی سیاست کا رخ بدل دے گا: حافظ نعیم الرحمٰن ایران کے ساتھ جنگ مڈٹرم انتخابات کے بعد ختم ہوجائے گی: ٹرمپ کا دعویٰ عراق کا ایران کے ساتھ 3 سرحدی گزرگاہوں پر آمدورفت بحال کرنے کا اعلان سعودی آئل پائپ لائن پر ڈرون حملہ، عراقی فورسز نے لانچنگ سائٹ کا سراغ لگا لیا وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کا ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی امن و استحکام پر تبادلہ خیال

امریکی صدر کا یمنی حوثیوں کے خلاف کارروائی سے پھر انکار

Web Desk

12 September 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یمنی حوثیوں کے خلاف براہِ راست عسکری کارروائی سے انکار کرتے ہوئے امریکی فوج کو تمام تر ترجیحات ایران اور آبنائے ہرمز کی صورتِ حال پر مرکوز رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ (Axios) کی رپورٹ کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ایک ہی روز میں دو بار ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں سعودی ولی عہد نے امریکا سے یمنی حوثیوں پر باقاعدہ حملے کرنے کی درخواست کی تھی۔

رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے سعودی عرب کا دورہ کر کے اہم ملاقاتیں کی ہیں۔ ان ملاقاتوں میں طے پایا کہ اگرچہ امریکا حوثیوں کے خلاف خود براہِ راست فضائی کارروائی میں حصہ نہیں لے گا، تاہم وہ سعودی عرب کو حوثیوں سے متعلق انٹیلی جنس معلومات (Intelligence Sharing) فراہم کرتا رہے گا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ پینٹاگون اس وقت صرف بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کی آزادانہ آمدورفت اور تحفظ یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔