LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا حکومت اور پیپلز پارٹی مذاکرات کا دوسرا دور ختم، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق سعودی سفیر کی خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم نامہ جاری برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا ماسکو میں تیسرے روس افریقہ سربراہی اجلاس کا آغاز، پوتن کا کثیر قطبی عالمی نظام پر زور

پنشنرز کے لیے ڈیجیٹل پروف آف لائف کا نیا ایس او پی جاری

Web Desk

9 September 2026

اسلام آباد: وفاقی وزارتِ خزانہ نے پنشنرز کی لائف ویری فکیشن کے نظام کو جدید، شفاف اور آسان بنانے کے لیے ’ڈیجیٹل پروف آف لائف‘ کے نئے طریقہ کار (SOPs) جاری کر دیے ہیں۔ نئے قواعد و ضوابط کے تحت پنشنرز کی بائیومیٹرک تصدیق میں کمرشل بینکوں کا عمل دخل مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے، جبکہ سال میں دو بار (مارچ اور ستمبر) لازمی فزیکل لائف سرٹیفکیٹ جمع کرانے کی شرط بھی منسوخ کر دی گئی ہے۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق اب پنشنرز کی لائف ویری فکیشن صرف نادرا اور اکاؤنٹنٹ جنرل دفاتر کے ذریعے کی جائے گی۔ پنشنرز ہر 180 دن (چھ ماہ) میں ‘نادرا پاک آئی ڈی’ موبائل ایپ کے ذریعے اپنی تصدیق کروا سکیں گے، جس کا ڈیجیٹل لائف سگنل براہِ راست کنٹرولر جنرل آف اے۔کاؤنٹس (CGA) اور ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل (MAG) کو موصول ہوگا۔ اس نظام کے تحت کمرشل بینکوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ معمول کے حالات میں پنشنرز سے بائیومیٹرک ڈیٹا یا لائف سرٹیفکیٹ طلب نہ کریں اور صرف رقم کی منتقلی کے ادارے کے طور پر کام کریں۔

نئے ایس او پی کے تحت پنشن اکاؤنٹس کو آئندہ کبھی بھی غیر فعال یا ‘ڈارمنٹ’ قرار نہیں دیا جائے گا اور نہ ہی تصدیق میں تاخیر پر بینک اکاؤنٹ پر ڈیبٹ کی پابندی لگا سکیں گے۔ تاہم، اگر چھ ماہ تک ڈیجیٹل لائف سگنل موصول نہ ہوا تو پنشن عارضی طور پر ‘سسپنس اسٹیٹس’ میں چلی جائے گی، جو لائف سگنل ملتے ہی خودکار طور پر بحال ہو جائے گی اور تمام بقایا جات بھی جاری کر دیے جائیں گے۔ 22 اگست 2026ء سے پہلے ڈارمنٹ کیے گئے تمام اکاؤنٹس ستمبر 2026ء سے پنشن کی رقم موصول ہوتے ہی دوبارہ فعال ہو جائیں گے۔

حکومت نے فزیکل ڈسبرسر ہاف کا نظام بھی مستقل طور پر ختم کر دیا ہے۔ تاہم، تکنیکی دشواری یا ڈیجیٹل تصدیق نہ ہونے کی صورت میں ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس دفاتر سے دستی تصدیق کی سہولت میسر ہوگی۔ انتہائی عمر رسیدہ پنشنرز ‘فارم 10’ کے ذریعے، جبکہ خاندانی پنشنرز اپنی ازدواجی حیثیت کی تصدیق کے لیے ‘فارم 12’ جمع کرا سکیں گے۔ وزارتِ خزانہ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ پنشن ادائیگی کے لیے بینک اکاؤنٹس کھولنے اور انہیں برقرار رکھنے پر کسی قسم کے سروس چارجز نہیں لیے جائیں گے۔