LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ملک میں بجلی کا شارٹ فال 4 ہزار میگا واٹ سے تجاوز کرگیا، بدترین لوڈشیڈنگ کا خدشہ سعودی آرامکو نے ایشیا کے لیے خام تیل سستا کردیا، قیمتیں 6 سال کی کم ترین سطح پر آگئیں آبنائے ہرمز میں بحری ٹینکر نامعلوم پروجیکٹائل کی زد میں آگیا، جہاز میں آگ بھڑک اٹھی حوثیوں کا سعودی دارالحکومت ریاض کے ائیرپورٹ اور آرامکو ریفائنری کو نشانہ بنانے کا دعویٰ میرا ذاتی خیال ہے اماراتی طیارہ واقعے کا ذمہ دار ایران ہے: ٹرمپ امریکا مذاکرات نہیں ایرانی حکومت کا تختہ الٹنا چاہتا ہے: صدر مسعود پزشکیان سعودی عرب کا سیاحتی ویزا سے متعلق اہم فیصلہ ب مجھے نفسیاتی طور پر اسپرین کی ضرورت ہے، ٹرمپ تیل کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہوگئے، آرامکو سربراہ کا انتباہ خیبر پختونخوا کی صورتحال اور پی ٹی آئی کا لانگ مارچ، وزیراعظم کا صدر زرداری سے جلد دوبارہ ملاقات کا فیصلہ ایران سے براہِ راست مذاکرات کیلئے تیار ہیں : صدر ٹرمپ کا اعلان بھاگنے کی عادت پرانی، ہر مشکل میں کارکنوں کو آگے کرکے خود پیچھے ہٹ جاتے ہیں: فیصل کریم ریاست خیرپور کے آخری حکمران میر علی مراد خان تالپور انتقال کر گئے مالی سال 2026-27 کے پہلے تین ماہ کے دوران ترقیاتی اخراجات کی رپورٹ جاری لائیو سٹاک برآمدات بڑھانے کیلئے خصوصی فارم ہاؤسز قائم کرنے کی منظوری

نئے صوبے بننے چاہئیں، باؤنڈری کا تعین عوام کرے گی: کیپٹن (ر) صفدر

Web Desk

7 September 2026

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما کیپٹن (ر) محمد صفدر نے انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کی قیام کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں نئے صوبے بالکل بننے چاہئیں اور ہزارہ صوبے کا قیام خود ہزارہ کے عوام کی خواہشات اور مرضی کے مطابق ہونا چاہیے۔ چناب نگر آمد کے موقع پر میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ نئے صوبوں کی حدود اور قیام کے لیے عوامی ریفرنڈم کروانا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسمبلیوں کے اندر اکثر دباؤ ڈال کر اور بازو مروڑ کر ووٹ حاصل کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبوں کے ایسے اہم فیصلے کرتے وقت علاقائی سیاسی قیادت کو لازمی طور پر مشاورت میں شامل کیا جائے۔

کیپٹن (ر) صفدر نے مزید کہا کہ ہم اصولی طور پر نئے انتظامی صوبوں کی تشکیل کے حامی ہیں، تاہم نئے صوبوں کی حدود کا حتمی تعین وہاں کے مقامی عوام کی صوابدید پر ہونا چاہیے۔ گفتگو کے اختتام پر انہوں نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کا بالکل ذاتی نقطۂ نظر ہے، جبکہ اس معاملے پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کا باقاعدہ اور رسمی جماعت کا موقف جاننے کے لیے عطاء تارڑ، پرویز رشید، خواجہ آصف اور خواجہ سعد رفیق سے رابطہ کیا جائے۔