LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا حکومت اور پیپلز پارٹی مذاکرات کا دوسرا دور ختم، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق سعودی سفیر کی خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم نامہ جاری برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا ماسکو میں تیسرے روس افریقہ سربراہی اجلاس کا آغاز، پوتن کا کثیر قطبی عالمی نظام پر زور

مسابقتی بجلی مارکیٹ کے قیام میں نیپرا کا فیصلہ اہم سنگِ میل ہے: اویس لغاری

Web Desk

7 September 2026

اسلام آباد: وفاقی وزیرِ توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (NEPRA) کے جدید فیصلے کا پرخلوص خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ملک میں ‘کمپیٹیٹو ٹریڈنگ بائی لیٹرل کنٹریکٹ مارکیٹ’ (CTBCM) کے عملی قیام کی سمت ایک اہم تاریخ ساز سنگِ میل قرار دیا ہے۔

سردار اویس لغاری نے وضاحت کی کہ ‘یوز آف سسٹم چارج’ (Wheeling Charges) کا باضابطہ تعیین سی ٹی بی سی ایم نیلامی کی راہ میں حائل آخری ریگولیٹری رکاوٹ تھی، جو اب کامیابی سے طے پا گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاریخی قدم پاکستان کو دہائیوں پرانے روایتی واحد خریدار (Single-Buyer) کے فرسودہ نظام سے نکال کر ایک شفاف اور مسابقتی مارکیٹ میں داخل کرے گا، جہاں اہل صنعتی صارفین پہلی بار اپنی پسند کے بجلی فراہم کنندگان (Bilateral Contracts) سے براہِ راست بجلی خرید سکیں گے۔

وزیرِ توانائی کا کہنا تھا کہ اس مسابقتی نظام کے ثمرات صرف صنعتی طبقات تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس سے بجلی کی پیداواری لاگت میں کمی آئے گی، موجودہ پاور پلانٹس کی صلاحیت کا بہتر استعمال ممکن ہو سکے گا اور پاور سیکٹر کی نااہلیوں کا خاتمہ ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام قابلِ تجدید توانائی اور بیٹری اسٹوریج کی شمولیت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ مہنگے درآمدی ایندھن پر پاکستان کا انحصار کم کرے گا، جبکہ وزارتِ توانائی اس جدید فریم ورک کو شفاف اور مؤثر انداز میں عملی شکل دینے کے لیے مکمل پرعزم ہے۔