LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ فلک جاوید جناح ہاؤس حملہ کیس میں گرفتار خواجہ آصف کا بیان مایوس کن، وفاقی حکومت واضح کرے یہ حکومتی پالیسی ہے یا ذاتی رائے: شرجیل میمن روس یوکرین جنگ بندی کی کوششیں، امریکی خصوصی ایلچی ماسکو پہنچ گئے انتظامی اصلاحات اور صوبوں کی تشکیلِ نو دو بالکل مختلف معاملات ہیں: ناصر شاہ یمن میں حکومتی فورسز اور حوثی باغیوں میں جھڑپیں، 60 سے زائد افراد ہلاک ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کے 24 ارب روپے کاروباری برادری کیلئے مختص نیپال میں سیلاب کے 10 روز بھی ریسکیو کارروائیاں جاری، مزید 2 افراد کو بچا لیا گیا زمان پارک کے باہر پولیس پر حملہ کیس، فلک جاوید کی ضمانت منظور آزاد کشمیر: شرپسندوں کی فائرنگ سے ایف سی جوان شہید، رینجرز اہلکار زخمی سانحہ پمز خطرے کی گھنٹی ہے، کرپشن کا نیٹ ورک توڑنا ہوگا، خواجہ آصف اے آئی حب کا افتتاح، پنجاب کا ایک یونٹ کی طرح کام کرنا ہماری بڑی طاقت ہے: مریم نواز نو مئی جلاؤ گھیراؤ مقدمات، پی ٹی آئی رہنماؤں کی عبوری ضمانتوں میں توسیع عمران خان کی شمولیت کے بغیر نئے صوبوں کا تصور نہیں بنتا: اسد عمر تعلیمی اداروں کے گرد منشیات فروشوں کیخلاف سی سی ڈی کا ہنگامی ایکشن پلان تیار بلوچستان سے اندرون ملک کیلئے ٹرین سروس 2 روز کیلئے معطل کردی گئی

جے ڈی وینس کا آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل بحال ہونے کا دعویٰ

Web Desk

4 September 2026

واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بحال ہو چکی ہے اور ترسیل جنگ شروع ہونے سے پہلے کی سطح کے قریب پہنچ گئی ہے۔

امریکی نائب صدر نے بتایا کہ گزشتہ روز آبنائے ہرمز سے 1 ارب 50 کروڑ بیرل تیل کا گزراؤ ہوا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس تزویراتی سمندری گزرگاہ پر ایران کا عملی اختیار ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو تجارتی بحری جہازوں پر حملے ہر صورت روکنا ہوں گے اور جب تک یہ حملے بند نہیں ہوتے، ایران کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید دہرایا کہ امریکا ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے گا۔

شادی کی تقریب پر مبینہ امریکی حملے سے متعلق ایرانی میڈیا کی رپورٹس پر بات کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا نے کبھی شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا، اس رپورٹ پر شک ہے تاہم معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیجنگ تہران پر دباؤ ڈالنے اور اسے معاشی طور پر تنہا کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے، اور چین اس سلسلے میں امریکا سے تعاون کے لیے تیار ہے۔