LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا حکومت اور پیپلز پارٹی مذاکرات کا دوسرا دور ختم، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق سعودی سفیر کی خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم نامہ جاری برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا ماسکو میں تیسرے روس افریقہ سربراہی اجلاس کا آغاز، پوتن کا کثیر قطبی عالمی نظام پر زور

پمز واقعہ کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہو گی، خود کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہوں: مصطفیٰ کمال

Web Desk

26 August 2026

اسلام آباد: وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے پمز ہسپتال (PIMS) پہنچ کر آتشزدگی کے دلخراش واقعے کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیا اور جاں بحق بچوں کے لواحقین سے ملاقات کر کے تعزیت کا اظہار کیا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے تصدیق کی کہ واقعے میں 14 بچے شہید ہوئے ہیں۔ انہوں نے سب سے پہلے خود کو احتساب کے لیے پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کی اپنی بھی غلطی ثابت ہوئی تو رعایت نہیں کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حادثہ صبح 6 بج کر 38 منٹ پر پیش آیا، جہاں ابتدائی شواہد کے مطابق اے سی سے شعلہ نکلا اور آگ وارڈ میں موجود آکسیجن لائنوں کی وجہ سے تیزی سے پھیل گئی۔

استعفے سے متعلق سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم ان کے باس ہیں اور کسی کو عہدے سے ہٹانے یا معطل کرنے کا تمام تر اختیار وزیراعظم شہباز شریف کا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ واقعے کی مکمل تحقیقاتی رپورٹ 2 سے 3 دن کے اندر سامنے آ جائے گی جسے عوام اور میڈیا کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر کی میڈیا ٹاک کے دوران جاں بحق بچوں کے شدید غم و غصے میں مبتلا لواحقین نے ہسپتال انتظامیہ اور حکومت کے خلاف زبردست احتجاج اور نعرے بازی کی اور واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔