LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
حکومت اپوزیشن ہاتھ ملائیں ایکدوسرے کے ساتھ ہاتھ نہ کریں: لیاقت بلوچ جو کچھ ہوا اس کی توقع نہیں تھی، بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال سے واپس منتقل کرنا بدقسمتی ہے: چیئرمین پی ٹی آئی ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنے کیلئے سو مرتبہ جنگ کرنے کو تیار ہوں: ٹرمپ ملک بھر میں غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف گرینڈ آپریشن کا فیصلہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز عمران خان کا شفا ہسپتال میں تفصیلی معائنہ، صحت مند قرار، دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا: عطا تارڑ بلوچستان میں دشمن عناصر ریاست اور عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنا چاہتے ہیں: فیلڈ مارشل پاکستان اور شام کا دفاعی شعبوں میں تعاون اور روابط بڑھانے پر اتفاق ایران کے خلاف امریکی پابندیاں، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ عائشہ وہاب امریکی کانگریس کی پہلی افغان نژاد خاتون رکن منتخب روس کے یوکرین میں مزید فضائی حملے، 17 افراد ہلاک، 40 زخمی دشمن کی دھمکیوں، حملوں کے باعث اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنا دیا: ایران امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن 9 ماہ بعد مشرق وسطیٰ سے روانہ عراق کا آبنائے ہرمز سے تیل برآمد کرنے کیلئے ایران سے خصوصی رعایت کا مطالبہ شام میں کرد انتظامیہ کو ریاستی اداروں میں ضم کرنے کا عمل مکمل

میر رضا قتل کیس، جبران ناصر کا وزیراعلیٰ سندھ کو خط، تفتیشی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا مطالبہ

Web Desk

20 August 2026

میر رضا کے والد کے وکیل جبران ناصر ایڈووکیٹ نے کیس کی تفتیش میں سنگین بے ضابطگیوں اور کوتاہیوں پر وزیراعلیٰ سندھ کو باقاعدہ خط ارسال کر دیا ہے۔ خط میں جبران ناصر نے وزیراعلیٰ سندھ سے معاملے کی براہِ راست نگرانی کرنے اور غفلت برتنے والے پولیس افسران کے خلاف سخت اقدام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

جبران ناصر کا کہنا تھا کہ نئی تفتیشی ٹیم کے قیام کے باوجود تحقیقات قتل کی اصل سمت میں آگے بڑھنے کے بجائے خودکشی کے سابقہ مؤقف کے گرد گھوم رہی ہے۔ انہوں نے ڈی آئی جی ایسٹ، ایس ایس پی ایس آئی یو اور ایس ایس پی ایسٹ سمیت دیگر متعلقہ پولیس افسران پر شواہد ضائع کرنے اور نااہلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے انہیں عہدوں سے معطل کرنے اور شفاف انکوائری کا مطالبہ کیا۔ وکیل کا کہنا تھا کہ شواہد کی لیبارٹری تاخیر سے منتقلی، میڈیا کو سی سی ٹی وی فوٹیجز جاری کرنے اور دوستانہ بیانات پر دباؤ ڈالنے سے پولیس کے کردار پر شدید سوالات اٹھتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مقتول کے اہل خانہ شفاف تحقیقات کے ذریعے اغوا، تشدد اور قتل کے اصل حقائق سامنے لانا چاہتے ہیں، اور اگر سندھ پولیس ناکام رہی تو وفاقی اداروں کی معاونت سے جے آئی ٹی (JIT) تشکیل دی جائے۔