LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا کا چین پر ٹیرف سے بچنے کے لیے بڑے پیمانے پر تجارتی دھوکے کا الزام کیرولائن لیوٹ نے استعفیٰ صدر ٹرمپ سے دلبرداشتہ ہونے پر دیا: ایرانی سفارتخانہ ٹرمپ نے اسلام آباد مفاہمت کے ذریعے ایران کو تسلیم کر لیا: باقر قالیباف ٹرمپ آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکیاں دینا بند کریں، اپنی سکیورٹی کی فکر کریں: ابراہیم عزیزی امریکی سینٹ کام کمانڈر بریڈ کوپر کا 10 روزہ مشرق وسطیٰ کا دورہ مکمل استاد نصرت فتح علی خان کو مداحوں سے بچھڑے 29 برس بیت گئے بابائے اردو مولوی عبدالحق کی 65ویں برسی آج منائی جا رہی ہے اسرائیل کا جنوبی لبنان میں سیز فائر کے بعد سب سے مہلک ترین حملہ، 11 افراد شہید جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کو جنگ باضابطہ ختم کرنے کی تجویز پیش کر دی ایران نے فرانس کو ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے خبردار کر دیا آبنائے ہرمز کی بندش کسی کے مفاد میں نہیں، دوبارہ کھولنا ترجیح ہے: ترک صدر ایران نے امریکی فوجیوں کی تدفین کیلئے جگہ مختص کر دی، 5 ہزار قبروں کی گنجائش ہوگی حوثی باغیوں کے حملوں کے بعد یمن کی المخا بندرگاہ نے آپریشن معطل کر دیا قطر نے ایرانی طیاروں کے 3 پائلٹس کی گرفتاری کے دعوؤں کی تردید کر دی ایران کو اپنے 3 پائلٹس قطر میں قید ہونے کا شبہ، ریڈ کراس سے مدد کی اپیل

کیرولائن لیوٹ نے استعفیٰ صدر ٹرمپ سے دلبرداشتہ ہونے پر دیا: ایرانی سفارتخانہ

Web Desk

16 August 2026

جنوبی افریقا میں قائم ایرانی سفارت خانے نے وائٹ ہاؤس کی سابق پریس سیکرٹری کیرولائن لیوٹ کے استعفے پر ردعمل دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے خاندانی مصروفیات کی بنا پر نہیں بلکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے رویے سے دلبرداشتہ ہو کر عہدہ چھوڑا ہے۔ ایکس (ٹوئٹر) پر جاری بیان میں سفارت خانے نے ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ جب باس اپنے اہلکاروں کو خطرے میں ڈال کر خود کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے فرار ہو جائے تو رفاقت کی تمام امیدیں دم توڑ جاتی ہیں۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ایرانی دعوؤں کو سراسر بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے وضاحت کی گئی ہے کہ کیرولائن لیوٹ ترکیہ کے دورے میں امریکی وفد کے ساتھ شامل ہی نہیں تھیں۔ واضح رہے کہ 8 جولائی کو انقرہ سے روانگی کے وقت ایرانی خطرات کے پیشِ نظر ڈونلڈ ٹرمپ کو سیکیورٹی وجوہات پر کیٹرنگ ٹرک کی مدد سے دوسرے فوجی طیارے (C-32A) میں منتقل کیا گیا تھا، جسے اپوزیشن اور ایرانی میڈیا کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔