LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ڈی آئی خان میں پولیس چیک پوسٹ پر مبینہ خودکش دھماکا، 11 افراد شہید، متعدد زخمی پی ٹی آئی کا ٹریک ریکارڈ درست نہیں، مجبوراً کنٹینرز لگا کر روکنا پڑتا ہے: گورنر پنجاب بیلاروس کی جدید طبی ٹیکنالوجی قابلِ تحسین ہے، چیئرمین سینیٹ سہیل آفریدی انتظامی طور پر فارغ، اب سیاسی طور پر بھی ہوچکے: عطا تارڑ بلوچستان میں شرپسندوں کا ڈیرہ بگٹی پر حملہ پسپا، 13 دہشت گرد مارے گئے بلوچستان کے ضلع دکی میں تعمیراتی کمپنی کے 18 مزدور اغوا، گارڈ شہید خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کا معاملہ، الیکشن کمیشن نے چیف سیکرٹری اور سیکرٹری بلدیات کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو بروقت اقدام ہے، وزیراعظم شہباز شریف ایک ہی الزام پر ایف آئی اے دوبارہ انکوائری نہیں کرسکتی: عدالت فیلڈ مارشل کی سعودی وزیرِ دفاع سے ملاقات، دفاعی تعاون جاری رکھنے کا عزم خیبر پختونخوا اسمبلی میں ارکان کی گرفتاری کا طریقہ کار واضح، سپیکر کی اجازت لازمی افغان سرزمین سے دہشت گردی ختم کیے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں: اسحاق ڈار بھارت ریاستی سطح پر دہشت گردی کی پشت پناہی میں ملوث ہے: صائمہ سلیم پی ٹی آئی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دہشت گردوں کے ساتھ ہے: خواجہ آصف اسلام آباد میں احتجاج کے تماشے کو ہمیشہ کیلئے بند کرنے کا فیصلہ کرلیا: رانا ثنا

ایران کے معاملے پر تمام آپشنز اب بھی موجود ہیں: وائٹ ہاؤس

Web Desk

26 July 2026

وائٹ ہاؤس نے واضح کیا ہے کہ ایران کے معاملے پر امریکہ کے پاس تمام آپشنز اب بھی موجود ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے ڈائریکٹر مواصلات سٹیون چونگ نے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہمیشہ سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن اگر ایران نے آبنائے ہرمز یا امریکی اتحادیوں کے خلاف شدت پسندانہ کارروائیاں جاری رکھیں تو تمام ردِعمل کے آپشنز برقرار رہیں گے۔

سٹیون چونگ نے مزید کہا کہ سخت اقتصادی پابندیوں اور ایران کے فوجی اہداف پر 13 روز تک جاری رہنے والے مسلسل حملوں کے بعد اب عقلمندانہ راستہ یہی ہے کہ ایران مذاکرات کی میز پر آئے، ورنہ وہ نتائج سے اچھی طرح واقف ہے۔ یہ بیان ان امریکی میڈیا رپورٹس کے بعد سامنے آیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پیٹریاٹ میزائلوں کی کمی اور خلیجی اتحادیوں کے تحفظات کے باعث فی الحال مزید فوجی حملے روک دیے گئے ہیں۔

دوسری جانب، کشیدگی میں عارضی کمی کے آثار بھی دیکھے جا رہے ہیں۔ امریکی حملوں میں وقفے کے بعد ایرانی فوج نے بھی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے اپنی جوابی کارروائیاں بند کر دی ہیں، تاہم وائٹ ہاؤس کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں صورتحال اب بھی حساس اور تذبذب کا شکار ہے۔