LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مسلسل اصلاحات اور مضبوط ذخائرپاکستان کے معاشی منظر نامےکو سہارا دے رہے ہیں: اے ڈی بی او آئی سی مسئلہ کشمیر کو عالمی ایجنڈے پر سرفہرست رکھے: اسحاق ڈار پاکستان اور سعودی عرب: بھائی چارے سے بالاتر ایک اتحاد، 96 واں سعودی قومی دن پی ٹی آئی لانگ مارچ: پنجاب حکومت کی فوج و رینجرز کی تعیناتی کی درخواست پنجاب بھر میں انٹرمیڈیٹ پارٹ ٹو کے سالانہ امتحانات کے نتائج جاری ایران نے اپنا مؤقف اور شرائط امریکا تک پہنچا دیں: اسماعیل بقائی سعودی قومی دن پر صدرِ مملکت اور وزیر اعظم کی شاہ سلمان اور محمد بن سلمان کو مبارکباد اقتصادی جائزہ مذاکرات کیلئے آئی ایم ایف کا وفد پاکستان پہنچ گیا علم اور اخلاق جارح دشمن کا ہاتھ کاٹ سکتے ہیں، ایرانی سپریم لیڈر نیویارک میں امریکی و ایرانی وفود کی ملاقات امریکا کے اصرار پر ہوئی، ایرانی میڈیا بحیرہ احمر کے راستے پاکستان کیلئے سعودی خام تیل کی ترسیل دوبارہ شروع وائٹ ہاؤس نے ’ٹرمپ ٹی وی‘ کے نام سے 24 گھنٹے چلنے والا چینل لانچ کر دیا ایران کے پڑوسی ممالک کا کشیدگی کے خاتمے کیلئے سفارتکاری عمل کی بحالی پر زور آئی ایم ایف کا یوکرین کو معاشی استحکام برقرار رکھنے کیلئے فنڈنگ کا فیصلہ ابتدائی ملاقات میں ٹرمپ کے ساتھ اچھا رابطہ قائم ہوا ہے، برطانوی وزیراعظم

ایچ ون بی (H-1B) ویزا پر 100,000 ڈالر فیس کا معاملہ: امریکی اپیلز کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کی درخواست مسترد کر دی

Web Desk

25 July 2026

امریکی ریاست بوسٹن کی پہلی یو ایس سرکٹ کورٹ آف اپیلز نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے جس میں ایچ ون بی (H-1B) کام کے ویزوں پر عائد 100,000 ڈالر فیس کو دوبارہ بحال کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔ تین رکنی ججز کے پینل نے فیصلے میں کہا کہ حکومت یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے کہ صدر کے پاس اس طرح کی بھاری رقم عائد کرنے کا قانونی اختیار موجود ہے۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد نچلی عدالت کا وہ حکم نامہ برقرار رہے گا جس نے اس متنازعہ فیس پر فی الحال روک لگا دی تھی۔

یہ فیصلہ جون میں ڈسٹرکٹ جج لیو سوروکن کی جانب سے دیے گئے فیصلے کی توثیق کرتا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ 100,000 ڈالر کی رقم دراصل ایک “ٹیکس” کی مانند ہے اور امریکی آئین کے تحت ٹیکس عائد کرنے کا اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے نہ کہ امریکی صدر کے پاس۔ ستمبر 2025 میں ٹرمپ انتظامیہ نے اس فیس کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ایچ ون بی ویزا پروگرام کا غلط استعمال کرکے مقامی امریکی ورکرز کی جگہ سستے غیر ملکی ماہرین کو رکھا جا رہا ہے، جس کے بعد 20 ڈیموکریٹک اٹارنی جنرلز نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔

عام طور پر ایچ ون بی ویزا کے لیے کمپنیاں 2,000 سے 5,000 ڈالر کے درمیان فیس ادا کرتی تھیں، لیکن اس 100,000 ڈالر کی غیر معمولی فیس کی وجہ سے درخواستوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ قانون دانوں اور امیگریشن ماہرین کے مطابق، اپیلز کورٹ کے اس تاز ترین فیصلے کے بعد ان غیر ملکی تکنیکی ماہرین اور ورکرز کو بڑی راحت ملے گی جن کی نوکریوں کے حقوق یا ویزا کے عمل اس بھاری فیس کی وجہ سے خطرے میں پڑ گئے تھے۔