LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
چینی کوسٹ گارڈ نے پانی کی توپ چلا کر متنازع پانیوں میں فلپائنی جہاز کے داخلے کی کوشش ناکام بنادی باب المندب سب کیلئے بند نہیں، صرف سعودی عرب کی ناکہ بندی ہے: حوثی ترجمان حوثیوں نے کمزور بہانوں سے صنعا ہوائی اڈے سے پروازیں روکیں، سعودی سفیر خلیج عمان میں ایل پی جی ٹینکر پر امریکی میزائل حملے میں 2 افراد جاں بحق، ایرانی خبرایجنسی ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ نہیں کیا: امریکی صدر سعودی اتحادی افواج کا یمن کے شہر الحدیدہ میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملہ کیئر سٹارمر نے جنگ میں امریکا، اسرائیل کا ساتھ دینے سے انکار کیا: ایرانی سفیر ایم کیو ایم کا آج حیدر آباد میں سندھ حکومت کیخلاف ریلی نکالنے کا اعلان امریکا کا ایل پی جی ٹینکر پر میزائلوں سے حملہ، عملے کے 2 اہلکار ہلاک ہوگئے: ایرانی میڈیا فلسطینی ایوان صدر نے اسرائیلی آبادکاروں کی کارروائیوں کو دہشتگردی قرار دیدیا اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل نہ ہوا تو اس کیساتھ جوہری معاہدہ نہیں کریں گے: ٹرمپ کا اعلان یمن کی حدیدہ بندرگاہ پر متعدد حملے، کمران جزیرے کو بھی نشانہ بنایا گیا قطر کی ٹانک میں ہونے والے دہشتگرد حملے کی شدید مذمت امریکا نے ایران، روس اور چین کے 130 تعلیمی اداروں پر پابندی لگادی مصنوعی ذہانت 5 برس میں انسانی ذہانت سے آگے نکل سکتی ہے: ایلون مسک کا انتباہ

ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد ناکام

Web Desk

23 July 2026

امریکی سینیٹ (US Senate) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف جنگی اختیارات کو محدود کرنے اور کسی بھی مزید فوجی کارروائی کے لیے کانگریس کی اجازت لازمی قرار دینے کی ڈیموکریٹس کی قرارداد کو ناکام بنا دیا ہے۔

سینیٹ میں ہونے والی کانٹے دار رائے شماری میں اس قرارداد کے حق میں 47 جبکہ مخالفت میں 49 ووٹ پڑے۔ اس ووٹنگ کے نتیجے میں صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف اپنی عسکری پالیسی اور آپریشنز بلا تعطل جاری رکھنے کی اجازت مل گئی ہے۔

 رائے شماری کے دوران ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی پارٹی کے موقف کے برعکس ڈیموکریٹس کی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جون فیٹرمین نے اپنی جماعت کی پالیسی کے خلاف جا کر قرارداد کی مخالفت میں ووٹ ڈالا۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایوانِ نمائندگان (House of Representatives) نے بالکل اسی دن ایران کے خلاف جنگ روکنے اور ٹرمپ کو وارننگ دینے کی قرارداد 208 کے مقابلے میں 214 ووٹوں سے منظور کر لی تھی، جس میں 4 ریپبلکن ارکان نے بھی حصہ لیا تھا۔  ڈیموکریٹس اور مخالفین کا موقف تھا کہ امریکی قانون کے تحت جنگ کا اعلان کرنے کا بنیادی اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے، جبکہ صدر ٹرمپ اور ان کے اتحادیوں نے دفاع کیا کہ قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے فوری ملٹری ایکشن صدر کا آئینی اختیار ہے۔