’سب کچھ یا پھر کچھ بھی نہیں‘، موجودہ جنگ کا اصول واضح ہے: باقر قالیباف
Web Desk
22 July 2026
ایرانی پارلیمنٹ (مجلس) کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادیوں کو سخت ترین انتباہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ موجودہ جنگ کا اصول بالکل سادہ اور واضح ہے: “سب کچھ یا پھر کچھ بھی نہیں”۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری کردہ اپنے ایک تفصیلی بیان میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ اگر بحرانی صورتحال کی وجہ سے ایران خطے میں اپنا تیل فروخت نہیں کر سکتا تو پھر خطے کا کوئی بھی دوسرا ملک اپنا تیل فروخت نہیں کر سکے گا۔ انہوں نے مزید خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران کی قومی سلامتی محفوظ نہ رہی، تو پھر خطے کے کسی بھی ملک کا بنیادی اور شہری ڈھانچہ محفوظ نہیں رہے گا۔
ایرانی اسپیکر کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز جیسے اہم اور حساس سمندری راستے کی سلامتی امریکی افواج کی خطے میں موجودگی کے بغیر بھی باحسن وخوبی یقینی بنائی جا سکتی ہے۔ محمد باقر قالیباف نے زور دے کر کہا کہ ایران پہلے ہی امریکی اور بین الاقوامی قیادت پر واضح کر چکا ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال اب جنگ سے پہلے جیسی ہرگز نہیں رہے گی اور ایران اپنی خودمختاری کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا۔
متعلقہ عنوانات
انصار اللہ کا سعودی عرب کے 2 آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
23 July 2026
سیریک، اہواز اور بوشہر میں دھماکے سنے گئے ہیں، ایرانی میڈیا
23 July 2026
امریکی فوج نے ایران پر مزید شدید فضائی حملے شروع کر دیے
23 July 2026
امریکا نے آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کا دعویٰ مسترد کر دیا
23 July 2026
امریکی ایوان نمائندگان میں قومی دفاعی اختیارات سے متعلق بل کثرت رائے سے منظور
22 July 2026
یورپ جارحیت کی پیروی کی بجائے سفارتکاری میں قائدانہ کردار ادا کرے، کاظم غریب آبادی
22 July 2026
یمنی حوثی گروپ نے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حملوں کی تیاریاں مکمل کر لیں
22 July 2026
ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، عراقچی
22 July 2026