LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وفاقی حکومت کا کفایت شعاری اقدامات جاری رکھنے کا فیصلہ شہباز شریف کے ہتکِ عزت دعوے کا کیس، وکیل کی درخواست پر دلائل طلب قائمہ کمیٹیوں میں واپسی کا فیصلہ بانی پی ٹی آئی کی منظوری سے مشروط عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد اضافہ کاروباری ہفتے کے پہلے روز سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی کا رجحان ایران مختلف ذرائع سے مذاکرات کی خواہش کا اشارہ دے رہا ہے: امریکی وزیر خارجہ وزیراعظم کی قومی ترقیاتی منصوبوں کو بروقت اعلیٰ معیار کیساتھ مکمل کرنے کی ہدایت مال بردار ٹرین کی بوگیاں ڈی ریل ہونے سے ٹریک تاحال بند، بحالی کا کام جاری امریکی فوجیوں کو مارنے کے جواب میں ہم نے آج ایران پر شدید حملہ کیا: ٹرمپ امریکا کی مسلسل نویں رات ایران پر بمباری، کئی شہروں میں دھماکے ایران نے اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا، بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا: کویتی حکام اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا اعزاز؛ رانا مشہود نے فیفا ورلڈ کپ 2026 کی آفیشل فٹ بال ‘ٹریونڈا’ دنیا کے سامنے پیش کر دی امریکی حملوں کے اعلان کے بعد ایران کے 5 شہروں میں دھماکوں کی آوازیں پاکستانی فری لانسرز نے مالی سال 26-2025 میں ریکارڈ 1 ارب 76 کروڑ ڈالر زرمبادلہ کمالیا ایرانی پاسداران انقلاب کا شام میں کمانڈ سینٹر پر حملہ

امریکا کے مسلسل آٹھویں رات ایران پر حملے، آبنائے ہرمز کے قریبی شہروں میں دھماکے

Web Desk

19 July 2026

اردن میں 2 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد خطے میں کشیدگی انتہائی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر پینٹاگون نے ایران پر پوری شدت سے بمباری کا آغاز کر دیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے مسلسل 8ویں رات کارروائی کرتے ہوئے ایران کے اسٹریٹجک بندرگاہی شہروں خوزستان اور ہرمزگان کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی طیاروں نے صبح 5 بج کر 55 منٹ پر شادگان اور 6 بج کر 10 منٹ پر جزیرہ قشم پر میزائل داغے، جہاں کم از کم 2 دھماکے سنے گئے۔ اس کے علاوہ سریک، بندر عباس اور بندر لنگہ میں بھی رات 1 بج کر 30 منٹ پر شدید بمباری کی گئی۔ دوسری جانب سینٹکام نے اعلان کیا ہے کہ امریکی وقت کے مطابق رات 11:30 بجے ایران کے خلاف حملوں کا ایک اور مرحلہ کامیابی سے مکمل کر لیا گیا ہے، جس میں پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی فضائی دفاعی تنصیبات، بحری صلاحیتوں اور میزائل و ڈرون ذخیرہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ سینٹکام کے مطابق اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی ہائی الرٹ پر تعینات ہیں۔