LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
محمود اچکزئی کی وزیراعظم سے ملاقات کیلئے تیسری جگہ مقرر کرنے کی شرط مسترد لاہور میں بسنت 2027 کی تاریخیں تبدیل، نوٹیفکیشن جاری ملک بھر میں کھیلوں کے فروغ کیلئے ٹیلنٹ کو بلاامتیاز مواقع دیں گے: وزیراعظم او آئی سی اجلاس شروع، عراقی وزیراعظم کی ثالثی کیلئے پاکستان کی ستائش خطے میں کسی بھی محاذ پر لڑائی کا مطلب جنگ جاری رہنا ہے: ایران کے پی حکومت مولانا کے بغیر چلے گی اور ترقی بھی کرے گی: گورنر فیصل کنڈی او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس آج بغداد میں ہوگا، اسحاق ڈار شرکت نہیں کریں گے خیبرپختونخوا میں معدنیات کے لائسنس پی ٹی آئی ادوار میں زیادہ دیئے گئے: خواجہ آصف خلیج میں توانائی تنصیبات پر حملے پاکستانی معیشت کیلئے تشویش کا باعث ہیں: وزیر خزانہ خیبر پختونخوا میں ایکشن پلان تیار، 27 محکموں کیلئے بڑے اقدامات تجویز سرکاری عہدہ ملازمت نہیں، عوامی خدمت کا ذریعہ ہے: مریم نواز فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ: بجلی 2 روپے 56 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی تیاری مشین ریڈایبل پاسپورٹ بند، اب صرف ای پاسپورٹ جاری ہوں گے سانحہ پشاور: سکول کی عمارت ناقص تعمیر کے باعث منہدم ہوئی، رپورٹ پولیس چیف کو ارسال پاکستان نے علاقائی استحکام کے فروغ کیلئے مؤثر کردار ادا کیا: رضوان سعید

غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے ٹرمپ امن کمیشن کا 2.45 ارب ڈالر کا منصوبہ پیش

Web Desk

24 September 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن مشن نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر جنگ زدہ غزہ کی بحالی اور ابتدائی تعمیرِ نو کے لیے 2.45 بلین ڈالر کے ایمرجنسی منصوبے کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت آئندہ 6 ماہ کے دوران 66 مختلف پروگراموں پر عمل درآمد کیا جائے گا، جن میں عارضی رہائش گاہوں کی فراہمی، ڈیزل جنریٹرز کے ذریعے بجلی کی بحالی، اور ملبہ و کچرا ہٹانے کے بنیادی اقدامات شامل ہیں۔ تاہم، امن ٹیم نے واضح کیا ہے کہ مختلف ممالک کی جانب سے 18 ارب ڈالر کے وعدوں کے باوجود اس وقت صرف 280 ملین ڈالر ہی عملی طور پر دستیاب ہو سکے ہیں، جبکہ دہائی پر محیط مکمل تعمیرِ نو کے لیے تقریباً 71.4 ارب ڈالر کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

نیویارک میں ہونے والے اس اہم اجلاس میں صدر ٹرمپ کے داماد اور امن کمیشن کے رکن جیرڈ کشنر اور امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف نے بھی شرکت کی۔ سٹیو وٹکوف نے دعویٰ کیا کہ تمام یرغمالیوں کی واپسی اور جنگ بندی کے باعث انسانی ہمدردی کی کوششوں میں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم حماس کے زیرِ کنٹرول غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے بھی اسرائیلی حملوں میں 300 بچوں سمیت 1,381 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ فنڈنگ کے درپیش شدید بحران کے علاوہ منصوبے کی عملی کامیابی کے لیے میدان میں کام کرنے والے عملے کی سیکیورٹی، فلسطینی انتظامی اصلاحات اور اسرائیلی و فلسطینی حکام کے درمیان حتمی معاہدہ اہم ترین چیلنجز تصور کیے جا رہے ہیں۔