LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر سے ملاقات، علاقائی صورتحال پر گفتگو شی جن پنگ کی وائٹ ہاؤس پہنچ گئے، ٹرمپ کا ریڈ کارپٹ پر شاندار استقبال اسرائیلی انتخابات: عرب جماعتوں کو الیکشن سے روکنے کا فیصلہ ترکمانستان نے ایرانی طیارے کو فضائی حدود میں داخل ہونے سے روک دیا ٹرمپ آج وائٹ ہاؤس میں چینی صدر شی جن پنگ کی میزبانی کریں گے ڈاکٹر محمد نجیب نقی صدر آزاد جموں و کشمیر منتخب، حلف اٹھا لیا نیشنل جوڈیشل آٹومیشن کمیٹی کا اجلاس: مقدمات کی ای فائلنگ نافذ کرنے پر غور بانی پی ٹی آئی سے رفقاء کی ملاقات کا وقت ختم، کسی رہنما کو اجازت نہ مل سکی مالدیپ کی عوامی مجلس کے سپیکر کا جی ایچ کیو کا دورہ، فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات سیاسی لوگوں پر نٹ لانچر استعمال نہیں ہوتے، حکومت اپنی انا ختم کر کے بات سنے: بیرسٹر گوہر ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلیٹی کی اگلی قسط: اسٹیٹ بینک اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور مکمل غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے ٹرمپ امن کمیشن کا 2.45 ارب ڈالر کا منصوبہ پیش کراچی: فی تولہ سونا 5600 روپے سستا، قیمت 4 لاکھ 48 ہزار 336 روپے ہو گئی امریکی محکمہ خارجہ کا ویزہ فراڈ کی روک تھام کے لیے آن لائن ٹپ پورٹل کا قیام 27 ستمبر کو توڑ پھوڑ کی اجازت نہیں دیں گے، قانون شکنی پر آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا: آئی جی پنجاب

اسرائیلی انتخابات: عرب جماعتوں کو الیکشن سے روکنے کا فیصلہ

Web Desk

24 September 2026

اسرائیل میں 27 اکتوبر 2026ء کو ہونے والے عام انتخابات سے قبل مرکزی الیکشن کمیٹی نے ایک متنازع فیصلہ کرتے ہوئے عرب اکثریتی سیاسی جماعتوں ‘رعام’ (Ra’am) اور ‘جوائنٹ لسٹ’ (Joint List) کو انتخابات میں حصہ لینے سے نااہل قرار دے دیا ہے۔ ان جماعتوں کے خلاف یہ درخواستیں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی زیر قیادت برسرِ اقتدار جماعت ‘لیکوڈ’ سمیت دیگر دائیں بازو کے سیاسی گروہوں کی جانب سے دائر کی گئی تھیں۔

درخواستوں میں ان جماعتوں پر اسرائیل کے خلاف مسلح جدوجہد کی حمایت کرنے اور ریاست مخالف نظریات رکھنے جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے، جنہیں متعلقہ عرب جماعتوں نے یکسر مسترد کر دیا ہے۔ مرکزی الیکشن کمیٹی نے ان دونوں سیاسی جماعتوں کے علاوہ ‘جوائنٹ لسٹ’ سے تعلق رکھنے والے نامزد امیدواروں عوفر کاسیف اور سامی ابو شہادہ کو بھی انفرادی طور پر الیکشن لڑنے سے روک دیا ہے۔ تاہم، قانون کے مطابق یہ فیصلے حتمی نہیں ہیں اور حتمی منظوری یا ردّ کے لیے اب یہ معاملہ اسرائیلی سپریم کورٹ میں پیش کیا جائے گا جو اس پر آخری فیصلہ صادر کرے گی۔