LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
شی جن پنگ کی وائٹ ہاؤس پہنچ گئے، ٹرمپ کا ریڈ کارپٹ پر شاندار استقبال اسرائیلی انتخابات: عرب جماعتوں کو الیکشن سے روکنے کا فیصلہ ترکمانستان نے ایرانی طیارے کو فضائی حدود میں داخل ہونے سے روک دیا ٹرمپ آج وائٹ ہاؤس میں چینی صدر شی جن پنگ کی میزبانی کریں گے ڈاکٹر محمد نجیب نقی صدر آزاد جموں و کشمیر منتخب، حلف اٹھا لیا نیشنل جوڈیشل آٹومیشن کمیٹی کا اجلاس: مقدمات کی ای فائلنگ نافذ کرنے پر غور بانی پی ٹی آئی سے رفقاء کی ملاقات کا وقت ختم، کسی رہنما کو اجازت نہ مل سکی مالدیپ کی عوامی مجلس کے سپیکر کا جی ایچ کیو کا دورہ، فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات سیاسی لوگوں پر نٹ لانچر استعمال نہیں ہوتے، حکومت اپنی انا ختم کر کے بات سنے: بیرسٹر گوہر ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلیٹی کی اگلی قسط: اسٹیٹ بینک اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور مکمل غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے ٹرمپ امن کمیشن کا 2.45 ارب ڈالر کا منصوبہ پیش کراچی: فی تولہ سونا 5600 روپے سستا، قیمت 4 لاکھ 48 ہزار 336 روپے ہو گئی امریکی محکمہ خارجہ کا ویزہ فراڈ کی روک تھام کے لیے آن لائن ٹپ پورٹل کا قیام 27 ستمبر کو توڑ پھوڑ کی اجازت نہیں دیں گے، قانون شکنی پر آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا: آئی جی پنجاب شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشت گرد ہلاک

ٹرمپ کا ایران کے خلاف وسیع فوجی آپریشن پر غور، درجنوں طیارے اسرائیل روانہ

Web Desk

18 July 2026

امریکی نیوز ویب سائٹ ‘ایگزیوس’ نے انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف ایک وسیع فوجی آپریشن شروع کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں، جس کے تحت درجنوں فضائی ایندھن بردار (ری فیولنگ) طیارے اسرائیل بھیجے جا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ کے زیرِ غور منصوبوں میں ایران کے بجلی گھروں، اہم انفراسٹرکچر اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانا شامل ہے تاکہ ایران پر دباؤ بڑھا کر آبنائے ہرمز کھلوائی جائے اور اسے جوہری مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے امریکی سینٹرل کمانڈ کو ایرانی جارحیت روکنے اور اس کی حملے کرنے کی صلاحیت محدود کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ دوسری جانب، ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے سخت ردعمل دیتے ہوئے امریکی فوجی اڈے رکھنے والے پڑوسی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر ان کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال ہوئی تو وہ مناسب جواب کے لیے تیار رہیں اور اپنے شہریوں کو ممکنہ فوجی اہداف سے دور رکھیں۔