LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
حرمین شریفین ہماری ریڈ لائن، حرمت پر آنچ نہیں آنے دیں گے: وزیراعظم تحریک انصاف کا لانگ مارچ 4 اکتوبر تک ملتوی، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے باضابطہ اعلان کر دیا وزیراعظم پانچ روزہ دورہ امریکا مکمل کرکے آج لندن پہنچیں گے نوشکی میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 11 دہشتگرد جہنم واصل ہماری پروازیں بند کی گئیں تو خطے میں کوئی جہاز نہیں اُڑنے دیں گے: ایران بلاول بھٹو کراچی سے اسلام آباد پہنچ گئے، اہم سیاسی ملاقاتیں متوقع پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا پولیس کو ٹائیگر فورس بنانے کی کوشش کی: فیصل کریم کنڈی امریکی قونصلیٹ کراچی میں ’’فریڈم 250‘‘ تقریب، امریکی کامیابیوں کا جشن ہمت ہے تو آؤ دھرنا دو، پی ٹی آئی لانگ مارچ سے بھاگ گئی: عطا تارڑ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی نیویارک میں ملاقات کابینہ کمیٹی برائے امن و امان کا اجلاس، 4 جے آئی ٹیز اور 21 کیسز کے جیل ٹرائلز کی منظوری فیول سکیم پر عملدرآمد کیلئے متعلقہ اداروں میں مؤثر رابطہ جاری ہے: بلال اظہر کیانی ایرانی پاسداران انقلاب کا آبنائے ہرمز میں امریکی بحری جہازوں کی پسپائی کا دعویٰ نجف سے ایران آنے اور جانیوالی تمام پروازیں معطل کردی گئیں اسٹیٹ بینک اور بینکنگ انڈسٹری کا اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ‘پاسبان ریمیٹنس ریوارڈز اسکیم’ کا اجراء

آبنائے ہرمز سرخ لکیر، خطے میں امریکی تنصیبات تباہ کر دیں گے: ایرانی افواج

Web Desk

16 July 2026

ایران کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابراہیم ذوالفقاری نے امریکہ کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکی افواج نے ایرانی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تو خطے میں موجود تمام اہم امریکی تنصیبات کو تباہ کر دیا جائے گا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ جارحیت کی صورت میں خطے کا انفراسٹرکچر بھی ایرانی مسلح افواج کا نشانہ بنے گا اور اسے اس طرح نیست و نابود کیا جائے گا جیسے اس کا کبھی وجود ہی نہیں تھا۔ ترجمان نے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو ایران کی ناقابلِ عبور سرخ لکیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو اس حساس آبی گزرگاہ میں مداخلت کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔ دوسری جانب، ایران کے فوجی ترجمان محمد اکرمینیا نے متنبہ کیا ہے کہ مسلسل امریکی عسکری کارروائیوں کے نتیجے میں جنگ نئے محاذوں تک پھیل سکتی ہے، اور ایران نے ابھی تک اپنی مکمل عسکری صلاحیتوں کا مظاہرہ نہیں کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ تہران کا اپنے ہمسایہ ممالک یا اسلامی ریاستوں سے تصادم کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور وہ علاقائی برادرانہ تعلقات کے خواہاں ہیں، تاہم ملکی سلامتی اور وقار کے تحفظ کے لیے دشمن کو ایسا جواب دیا جائے گا جو اس کے وہم و گمان سے بھی باہر ہوگا۔