LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
یو اے ای میں امریکی سفارتخانے نے سکیورٹی صورتحال کے باعث قونصلر اپائنٹمنٹس منسوخ کر دیں امریکی صدر ٹرمپ کا ایران پر مزید شدید حملوں کا اعلان یورپی یونین کا غزہ کی بحالی کیلیے ایک ارب ڈالر فنڈ کا اعلان خلیجی ملک نے نقد ادائیگیوں سے متعلق بڑی پابندی لگا دی ٹرمپ سے متفق ہوں کہ جہازوں کو تحفظ فراہم کرنے پر معاوضہ ملنا چاہیے: عباس عراقچی کوئٹہ اور نوشکی میں فائرنگ سے قبائلی رہنما سمیت 3 افراد جاں بحق کوہاٹ میں طوفانی بارش سے مکان کی چھت گر گئی، 9 افراد جاں بحق فیصل آباد میں گندے نالے میں گر کر 8 سالہ بچہ جاں بحق وزیراعظم سے سیکرٹری جنرل مسلم ورلڈ لیگ کی ملاقات، مسلم دنیا کے مسائل پر تبادلہ خیال ڈھوک ٹاہلیاں ڈیم میں مچھلیوں کی ہلاکت کا معاملہ وفاق تک پہنچ گیا، تحقیقات کا حکم ایران میں حالیہ امریکی حملوں میں شہدا کی تعداد 24 ہوگئی ایران کا ایک ارب ڈالر مالیت کا خام تیل چین روانہ، ایرانی آئل ٹینکروں نے ٹریکنگ سسٹم بند کر دیا پٹرولیم قیمتوں کے نظام میں اصلاحات، پلیٹس ڈیٹا عوامی کرنے کی سفارش پاکستان اور سعودی عرب کا توانائی تعاون بڑھانے پر اتفاق یمن نے صنعاء ایئرپورٹ پر حملے کے بعد ملک کے تمام ہوائی اڈے بند کردیئے

پنجاب اسمبلی کی تاریخ میں پہلی بار پارلیمانی جوڈیشل کمیٹی قائم

Web Desk

13 July 2026

پنجاب اسمبلی کی تاریخ میں پہلی بار ایک اعلیٰ اختیاراتی ‘پارلیمانی جوڈیشل کمیٹی’ تشکیل دے دی گئی ہے۔ یہ اہم اقدام پنجاب اسمبلی پریولیجز ایکٹ 1972 کے سیکشن 11 سی (11-C) کے تحت اٹھایا گیا ہے۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کی خصوصی ہدایت پر قائم کی جانے والی اس نو تشکیل شدہ کمیٹی کے چیئرمین رکنِ اسمبلی سردار محمد اویس دریشک مقرر کیے گئے ہیں۔ کمیٹی کے دیگر ارکان میں سید علی حیدر گیلانی، شوکت راجہ، نورالامین وٹو، چودھری افتخار حسین چھچھر، امجد علی جاوید، ذوالفقار علی شاہ، راحیلہ خادم حسین اور احمر رشید بھٹی شامل ہیں، جبکہ اسپیکر کے مشیر اسامہ خاور گھمن کمیٹی کو کارروائی کے دوران قانونی و تکنیکی معاونت فراہم کریں گے۔

ذرائع کے مطابق، یہ جوڈیشل کمیٹی اسمبلی کے پارلیمانی استحقاق اور نظم و ضبط سے متعلق مقدمات کی سماعت، تحقیقات اور اسپیکر کی جانب سے بھجوائے گئے استحقاقی ریفرنسز پر کارروائی کرنے کی مجاز ہوگی۔ کمیٹی کو کسی بھی معاملے میں نوٹس جاری کرنے، شواہد و دستاویزات طلب کرنے، گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے اور متعلقہ افراد کا مؤقف سننے کے وسیع اختیارات دیے گئے ہیں۔ تحقیقات مکمل ہونے پر کمیٹی اپنی حتمی رپورٹ اور سفارشات اسپیکر پنجاب اسمبلی کو پیش کرے گی، اور استحقاق کی خلاف ورزی ثابت ہونے کی صورت میں ملزمان کو سزا یا جرمانے کی سفارش کر سکے گی۔ واضح رہے کہ دیوانی اور فوجداری مقدمات اس کمیٹی کے دائرۂ اختیار میں شامل نہیں ہوں گے۔ اسمبلی ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی پی او قصور وہ پہلے سرکاری افسر ہوں گے جن کا کیس اس نو تشکیل شدہ پارلیمانی جوڈیشل کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔