LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پنجاب میں15 دسمبر سے 15 جنوری کے درمیان بلدیاتی انتخابات کروانے پر اتفاق مریم نواز سے استحکام پاکستان پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی کی ملاقات، سیاسی امور پر تبادلہ خیال لاہور: چیف جسٹس پاکستان اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کے اعزاز میں استقبالیہ ڈیزل سستا ہونے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 10 فیصد کمی پٹرولیم لیوی واپس نہ لی تو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریں گے: حافظ نعیم الرحمن عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے خلاف حکومتی درخواست اعتراض لگا کر واپس حوثی حملے میں زخمی 6 پاکستانی ملاح وطن واپس، 2 میتیں بھی منتقل محنت اور خون پسینے کی کمائی کو رشوت کی نذر نہیں ہونے دیا جائے گا: مریم نواز وزیراعظم نے اپوزیشن کو معاملات طے کرنے کی دعوت دے دی ملائیشیا کے وزیر داخلہ 2 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے ملک کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش، سیلاب کا خدشہ وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب، امن و امان، قانون سازی، بانی کے معاملے پر غور ہوگا ملک بھر کے دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی صورتحال: تربیلا، منگلا اور چشمہ میں ریکارڈ اسٹاک موجود مریم نواز کا ستھرا پنجاب ورکر کو ہر ماہ 5 تاریخ سے قبل ادائیگی یقینی بنانے کا حکم ایران کی جانب سے خطرات، رکن ممالک کے دفاع کے لیے تیار ہیں: نیٹو

لاہور، واٹر لینڈ پارک میں 9 سالہ بچی کی ہلاکت، منیجرسمیت 3 ذمہ دار گرفتار

Web Desk

13 July 2026

صوبائی دارالحکومت لاہور کے ایک نجی واٹر لینڈ پارک میں انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کے باعث 9 سالہ معصوم بچی کے جاں بحق ہونے کا انتہائی لرزہ خیز اور افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جس پر پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے پارک کے مینیجر سمیت تین کلیدی عہدیداروں کو گرفتار کر لیا ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز کے ترجمان کے مطابق، 9 سالہ رامین فاطمہ سوئمنگ پول میں نہاتے ہوئے وہاں موجود پانی کی نکاسی کے کھلے مین ڈرین ہول میں جا گری اور تیز بہاؤ کے باعث ڈرینج پائپ کے اندر پھنس گئی۔ ترجمان نے انکشاف کیا کہ یہ لرزہ خیز حادثہ پول کے مین ڈرین ہول پر حفاظتی جالی (سیفٹی نیٹ) نصب نہ ہونے کی وجہ سے پیش آیا، جو پارک انتظامیہ کی کھلی لاپرواہی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

پولیس کے مطابق، ننھی رامین فاطمہ کی موت دم گھٹنے اور کھلے مین ہول میں پھنسنے کی وجہ سے ہوئی۔ اس ہولناک واقعے کے بعد تھانہ باٹا پور میں مقتولہ بچی کی والدہ کی مدعیت میں متعلقہ دفعات کے تحت باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس کی فرانزک اور تفتیشی ٹیموں نے جائے وقوعہ سے اہم شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور واقعے کی تمام تر تکنیکی و قانونی پہلوؤں سے باریک بینی سے تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔ کارروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے پولیس نے غفلت کے مرتکب تین مرکزی کرداروں— جن میں واٹر پارک کا جنرل مینیجر، سیکیورٹی انچارج اور سی سی ٹی وی انچارج شامل ہیں— کو دھر لیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس دلخراش واقعے میں غفلت یا کوتاہی برتنے والے کسی بھی شخص کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا اور معصوم بچی کی موت کے ذمہ دار تمام عناصر کو کڑی سے کڑی سزا دلوا کر متاثرہ خاندان کو ہر صورت انصاف فراہم کیا جائے گا۔