LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایبٹ آباد: بیکری میں آگ لگنے سے جھلسنے والے 3 مزدور دم توڑ گئے یو اے ای میں امریکی سفارتخانے نے سکیورٹی صورتحال کے باعث قونصلر اپائنٹمنٹس منسوخ کر دیں امریکی صدر ٹرمپ کا ایران پر مزید شدید حملوں کا اعلان یورپی یونین کا غزہ کی بحالی کیلیے ایک ارب ڈالر فنڈ کا اعلان خلیجی ملک نے نقد ادائیگیوں سے متعلق بڑی پابندی لگا دی ٹرمپ سے متفق ہوں کہ جہازوں کو تحفظ فراہم کرنے پر معاوضہ ملنا چاہیے: عباس عراقچی کوئٹہ اور نوشکی میں فائرنگ سے قبائلی رہنما سمیت 3 افراد جاں بحق کوہاٹ میں طوفانی بارش سے مکان کی چھت گر گئی، 9 افراد جاں بحق فیصل آباد میں گندے نالے میں گر کر 8 سالہ بچہ جاں بحق وزیراعظم سے سیکرٹری جنرل مسلم ورلڈ لیگ کی ملاقات، مسلم دنیا کے مسائل پر تبادلہ خیال ڈھوک ٹاہلیاں ڈیم میں مچھلیوں کی ہلاکت کا معاملہ وفاق تک پہنچ گیا، تحقیقات کا حکم ایران میں حالیہ امریکی حملوں میں شہدا کی تعداد 24 ہوگئی ایران کا ایک ارب ڈالر مالیت کا خام تیل چین روانہ، ایرانی آئل ٹینکروں نے ٹریکنگ سسٹم بند کر دیا پٹرولیم قیمتوں کے نظام میں اصلاحات، پلیٹس ڈیٹا عوامی کرنے کی سفارش پاکستان اور سعودی عرب کا توانائی تعاون بڑھانے پر اتفاق

لاہور، واٹر لینڈ پارک میں 9 سالہ بچی کی ہلاکت، منیجرسمیت 3 ذمہ دار گرفتار

Web Desk

13 July 2026

صوبائی دارالحکومت لاہور کے ایک نجی واٹر لینڈ پارک میں انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کے باعث 9 سالہ معصوم بچی کے جاں بحق ہونے کا انتہائی لرزہ خیز اور افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جس پر پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے پارک کے مینیجر سمیت تین کلیدی عہدیداروں کو گرفتار کر لیا ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز کے ترجمان کے مطابق، 9 سالہ رامین فاطمہ سوئمنگ پول میں نہاتے ہوئے وہاں موجود پانی کی نکاسی کے کھلے مین ڈرین ہول میں جا گری اور تیز بہاؤ کے باعث ڈرینج پائپ کے اندر پھنس گئی۔ ترجمان نے انکشاف کیا کہ یہ لرزہ خیز حادثہ پول کے مین ڈرین ہول پر حفاظتی جالی (سیفٹی نیٹ) نصب نہ ہونے کی وجہ سے پیش آیا، جو پارک انتظامیہ کی کھلی لاپرواہی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

پولیس کے مطابق، ننھی رامین فاطمہ کی موت دم گھٹنے اور کھلے مین ہول میں پھنسنے کی وجہ سے ہوئی۔ اس ہولناک واقعے کے بعد تھانہ باٹا پور میں مقتولہ بچی کی والدہ کی مدعیت میں متعلقہ دفعات کے تحت باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس کی فرانزک اور تفتیشی ٹیموں نے جائے وقوعہ سے اہم شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور واقعے کی تمام تر تکنیکی و قانونی پہلوؤں سے باریک بینی سے تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔ کارروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے پولیس نے غفلت کے مرتکب تین مرکزی کرداروں— جن میں واٹر پارک کا جنرل مینیجر، سیکیورٹی انچارج اور سی سی ٹی وی انچارج شامل ہیں— کو دھر لیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس دلخراش واقعے میں غفلت یا کوتاہی برتنے والے کسی بھی شخص کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا اور معصوم بچی کی موت کے ذمہ دار تمام عناصر کو کڑی سے کڑی سزا دلوا کر متاثرہ خاندان کو ہر صورت انصاف فراہم کیا جائے گا۔