LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایف آئی اے کارروائی، نجی پیٹرولیم کمپنی سے ٹیکس چوری کے اربوں روپے کی ریکوری آئی پی پی میں شمولیت کرنیوالوں میں سب سے بڑا نام سردار تنویرالیاس کا ہے: رانا ثناء اللہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کا ٹیلیفونک رابطہ، واشنگٹن میں جلد ملاقات پر اتفاق وزیراعظم شہباز شریف دوطرفہ دورے پر استنبول پہنچ گئے وزیراعظم شہید آیت اللہ خامنہ ای کے تعزیتی اجتماع میں شرکت کے بعد ترکیہ روانہ امریکہ کی 250 ویں سالگرہ کے موقع پر ٹائمز اسکوائر پر ہونے والے 8 تاریخی ‘بال ڈراپ’  عوامی تقریب کو  ایک انتہائی محدود اور نجی ایونٹ میں تبدیل کر دیا گیا امریکہ کی 250ویں سالگرہ، نیویارک کے ٹائمز اسکوائر پر 8 مرتبہ ‘بال ڈراپ’ کا تاریخی جشن، شیڈول جاری شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی تعزیتی تقریبات جاری، عالمی وفود کی آمد 28 ارب روپے مالیت کی منشیات اور غیر ملکی شراب تلف، 18 ہزار بوتلیں نذرِ آتش ملک بھر میں مون سون بارشوں سے 17 افراد جاں بحق، 41 زخمی ہوئے: این ڈی ایم اے جاپانی وزیراعظم کا دورہ بھارت، چین نے دونوں ممالک کو خبردار کردیا وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تہران میں آیت اللہ خامنہ ای کی تجہیز و تکفین میں شرکت این ڈی ایم اے کی ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کا پہلا اجلاس، مون سون خطرات کا جائزہ لیا گیا لاہور میں غیر رجسٹرڈ سکولوں کے خلاف کارروائی، 744 اداروں کو نوٹس جاری روپے کی قدر میں بہتری، انٹربینک میں ڈالر مزید سستا

حزب اللہ کو غیر مسلح کیے بغیر جنوبی لبنان سے فوج واپس نہیں بلائیں گے، اسرائیل

Web Desk

3 July 2026

اسرائیلی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ جنوبی لبنان سے اپنی افواج اس وقت تک واپس نہیں بلائے گا جب تک حزب اللہ کو مکمل طور پر غیر مسلح نہیں کر دیا جاتا اور اسرائیل کو لاحق تمام سیکیورٹی خدشات مستقل طور پر ختم نہیں ہو جاتے۔

اسرائیلی حکومت کے ترجمان ڈیوڈ مینسر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی اولین ذمہ داری اپنے شہریوں کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اسرائیل کسی بھی ایسے مسلح گروہ کو اپنی سرحدوں کے قریب موجود رہنے کی اجازت ہرگز نہیں دے سکتا جسے وہ اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہو۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کی واپسی کا مکمل انحصار اس بات پر ہے کہ حزب اللہ کی عسکری صلاحیتوں کا خاتمہ کیا جائے اور مستقبل میں اسرائیل کے خلاف کسی بھی ممکنہ جارحیت کو روکا جائے۔

اسرائیل کا یہ سخت بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکی ثالثی میں سفارتی مذاکرات کا عمل جاری ہے۔ رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کے نمائندوں نے امریکا میں مذاکرات کے حالیہ دور کے دوران مختلف سیکیورٹی اور سرحدی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ان مذاکرات کے بعد اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ دونوں فریق بعض معاملات پر پیش رفت کے قریب پہنچ رہے ہیں، تاہم ابھی کسی حتمی معاہدے کا اعلان نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری جانب لبنان اور حزب اللہ کی طرف سے ان اسرائیلی مطالبات پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

واضح رہے کہ جنوبی لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان شدید کشیدگی کے باعث گزشتہ کئی ماہ کے دوران متعدد خونریز فوجی جھڑپیں، فضائی بمباری اور راکٹ حملے رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کے نتیجے میں دونوں جانب بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے جبکہ سرحد کے دونوں اطراف سے لاکھوں شہری نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اسرائیل کا یہ تازہ مؤقف مستقبل کے مذاکرات کو مزید پیچیدہ اور تعطل کا شکار بنا سکتا ہے، کیونکہ حزب اللہ کے اسلحے کا معاملہ لبنان کی داخلی سیاست، خود مختاری اور علاقائی سلامتی کے اہم ترین اور حساس ترین تنازعات میں شمار ہوتا ہے۔