سپریم ایپلیٹ کورٹ کا بڑا فیصلہ، جی بی اے-17 کے 8 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کا حکم
Web Desk
3 July 2026
سپریم ایپلیٹ کورٹ گلگت بلتستان نے حلقہ جی بی اے-17 (ڈیامیر) کے متنازع انتخاب سے متعلق ایک انتہائی اہم اور تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے حلقے کے 8 متاثرہ پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کرانے کا حکم دے دیا ہے۔
سپریم ایپلیٹ کورٹ کے چیف جج جسٹس سردار محمد شمیم خان نے کیس کی سماعت کے بعد چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے 15 جون کو جاری کیا گیا حکم نامہ سراسر غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کو دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر حلقے کا حتمی نتیجہ مرتب کرنے کے فیصلے کو بھی معطل کر دیا ہے۔
عالیہ عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ الیکشن کے روز نامعلوم مسلح افراد متعدد پولنگ اسٹیشنز میں زبردستی داخل ہوئے، وہاں موجود عملے سے انتخابی مواد اور بیلٹ پیپرز چھین لیے جس کی وجہ سے انتخابی عمل شدید متاثر ہوا اور شفاف انتخابات کے بنیادی تقاضے پورے نہیں ہو سکے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق، حلقے کے 6 پولنگ اسٹیشنز کے بیلٹ باکس سرعام چھین لیے گئے تھے، جن کے ووٹ فارم 47 میں شامل ہی نہیں کیے گئے تھے، جس سے پورے انتخابی نتائج کی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے تھے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ان 8 پولنگ اسٹیشنز پر سنگین انتخابی بے ضابطگیاں اور قانون کی صریح خلاف ورزیاں ثابت ہو چکی ہیں، اس لیے وہاں کے عوام کو دوبارہ حقِ رائے دہی دینا ناگزیر ہے۔
سپریم ایپلیٹ کورٹ نے واضح الفاظ میں قرار دیا کہ چیف الیکشن کمشنر کو اپنے ہی سابقہ فیصلے پر نظرثانی (Review) کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں تھا، لہٰذا ان کا 15 جون کا حکم قانون کے مطابق برقرار نہیں رہ سکتا۔ عدالت نے الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کو سخت ہدایت کی ہے کہ وہ ان متاثرہ پولنگ اسٹیشنز پر فوری طور پر نیا انتخابی شیڈول جاری کرے اور دوبارہ شفاف پولنگ کے انتظامات مکمل کرے۔
واضح رہے کہ ریٹرننگ آفیسر (RO) کی جانب سے جاری کردہ فارم 49 کے مطابق اس حلقے سے پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کے امیدوار محمد نسیم 8 ہزار 954 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے تھے، جبکہ جمیعت علمائے اسلام (جے یو آئی-ف) کے امیدوار حاجی رحمت خالق 5 ہزار 286 ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر رہے تھے۔ تاہم، اب عدالت کے اس فیصلے کے بعد حلقے کے حتمی نتیجے کا فیصلہ ان 8 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ ہونے والی پولنگ کے بعد ہی ہوگا۔
متعلقہ عنوانات
قومی اسمبلی کا جعلی افسر بننے والا گرفتار، اسپیکر کےگھوٹکی: قومی اسمبلی کا جعلی افسر بن کر فراڈ کرنے والا ملزم ایف آئی اے کے ہاتھوں گرفتار، اسپیکر کے جعلی دستخط بھی برآمد گھوٹکی/سکھر: وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) سکھر زون نے ایک بڑی اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے قومی اسمبلی کا جعلی افسر بن کر مختلف افراد اور اداروں سے فراڈ کرنے والے ایک شاطر ملزم کو سندھ کے ضلع گھوٹکی سے گرفتار کر لیا ہے۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق یہ کارروائی قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے موصول ہونے والی ایک باقاعدہ اور تحریری شکایت پر عمل میں لائی گئی۔ ایف آئی اے کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، گرفتار ملزم خود کو قومی اسمبلی کے ‘پارلیمانی فرینڈشپ گروپ’ کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر ظاہر کرتا تھا اور اس جعلی شناختی رعب کے ذریعے طویل عرصے سے مختلف سرکاری و نجی اداروں اور سادہ لوح افراد کو گمراہ کر رہا تھا۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ چونکا دینے والا انکشاف ہوا ہے کہ ملزم نے قومی اسمبلی میں اپنی پوزیشن کو سچ ثابت کرنے کے لیے انتہائی مہارت سے جعلی سرکاری دستاویزات، لیٹر ہیڈز اور کارڈز بھی تیار کر رکھے تھے۔ حد تو یہ ہے کہ ملزم نے قومی اسمبلی کے اسپیکر کے ہو بہو جعلی دستخط استعمال کرتے ہوئے اپنا ایک بوگس تقرری نامہ (Appointment Letter) بھی تیار کیا ہوا تھا، جسے وہ مختلف جگہوں پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے طور پر پیش کر کے خود کو اصل سرکاری افسر ظاہر کرتا تھا۔ ایف آئی اے نے چھاپے کے دوران ملزم کے قبضے سے تمام جعلی دستاویزات اور کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ قبضے میں لے کر انہیں فرانزک جانچ (Forensic Analysis) کے لیے لیبارٹری بھجوا دیا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف دھوکہ دہی، جعلسازی اور سرکاری افسر کا روپ دھارنے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے باقاعدہ تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق ملزم سے اس وقت تفتیش جاری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اس نے اب تک اس جعلی شناخت کے ذریعے کتنے مالی اور انتظامی فوائد حاصل کیے، اور کیا اس جعلسازی میں کوئی منظم گینگ یا قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کا کوئی اندرونی کارندہ بھی ملوث ہے یا نہیں۔ ایف آئی اے نے واضح کیا ہے کہ کیس کا دائرہ کار وسیع کیا جا رہا ہے اور مزید اہم گرفتاریوں اور انکشافات کی توقع ہے۔ وضاحت: موصولہ متن کے درمیان میں “لاہور میں 760 غیرقانونی تعلیمی اداروں کا انکشاف” کی ایک لائن موجود تھی، جو کہ گھوٹکی میں ایف آئی اے کی کارروائی اور قومی اسمبلی کے جعلی افسر کے کیس سے بالکل مطابقت نہیں رکھتی۔ یہ کسی دوسری خبر کی سرخی معلوم ہوتی ہے، اس لیے صحافتی اصولوں کے مطابق اسے اس رپورٹ سے خارج کر دیا گیا ہے۔ جعلی دستخط سے تقرری نامہ بھی تیار کرلیا
3 July 2026
چند لاکھ روپے سے جانوں کا نقصان پورا نہیں ہو سکتا، کاہنہ بستی سانحہ پر حافظ نعیم الرحمان کی حکومت پر شدید تنقید
3 July 2026
آڈیالہ جیل کا قیدی دورانِ علاج ہسپتال میں دم توڑ گیا
3 July 2026
وزیراعظم شہید آیت اللہ خامنہ ای کے تعزیتی اجتماع میں شرکت کے بعد ترکیہ روانہ
3 July 2026
امریکہ کی 250 ویں سالگرہ کے موقع پر ٹائمز اسکوائر پر ہونے والے 8 تاریخی ‘بال ڈراپ’ عوامی تقریب کو ایک انتہائی محدود اور نجی ایونٹ میں تبدیل کر دیا گیا
3 July 2026
امریکہ کی 250ویں سالگرہ، نیویارک کے ٹائمز اسکوائر پر 8 مرتبہ ‘بال ڈراپ’ کا تاریخی جشن، شیڈول جاری
3 July 2026
شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی تعزیتی تقریبات جاری، عالمی وفود کی آمد
3 July 2026
28 ارب روپے مالیت کی منشیات اور غیر ملکی شراب تلف، 18 ہزار بوتلیں نذرِ آتش
3 July 2026