LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ضرورت پڑی تو فوجی کارروائی مکمل کی جائیگی: ٹرمپ کی ایک بار پھر ایران کیخلاف مزید سخت فوجی کارروائی کی وارننگ آج سے 3 جولائی تک وقفے وقفے سے پری مون سون بارشوں کی پیش گوئی دہشت گردی کے ہر فتنے کا پوری قوت سے خاتمہ کیا جائے گا: صدر، وزیراعظم امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایرانی اہداف پر حملے کی ویڈیو جاری کر دی امریکی جارحیت کا جواب، ایران کے بحرین اور کویت میں امریکی تنصیبات پر حملے تہران نے سبق نہ سیکھا تو اسلامی جمہوریہ ایران کا وجود باقی نہیں رہے گا، ٹرمپ کی دھمکی امریکہ ایران مفاہمتی یادداشت پر نئے حملوں کے اثرات سے متعلق خدشات بڑھ گئے امریکی بمباری سے ایران کے ساحلی شہر سیرک میں ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور تباہ، جزیرہ قشم میں بھی دھماکے امریکہ جنوبی لبنان سے انخلا کیلئے اسرائیل پر دباؤ ڈالے: لبنانی صدر لبنان کے ساتھ معاہدہ ایران اور حزب اللہ کیلئے دھچکا ہے، نیتن یاہو وینزویلا میں زلزلوں سے ہلاک افراد کی تعداد 1 ہزار 430 ہوگئی اسرائیلی فوج کی لبنان میں موجودگی کو توسیع دینے پر لبنانی شہریوں کا شدید احتجاج تجارتی جہاز پر حملے کا جواب، امریکہ نے ایک بار پھر ایران پر حملہ کر دیا امریکی ثالثی میں ہونیوالے معاہدے سے لبنانی علاقے اسرائیل میں ضم ہونےکاخدشہ ہے، حزب اللہ نےلبنان اسرائیل معاہدہ مسترد کر دیا سعودی عرب نے 3 ممالک پر سفری پابندیاں عائد کردیں

قطری و سعودی وزرائے خارجہ کا رابطہ، خطے کو بلاجواز حملوں سے محفوظ رکھنے پر زور

Web Desk

28 June 2026

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے براہ راست فوجی تصادم اور تند و تیز بیانات کے بعد مشرقِ وسطیٰ کو ایک بڑی جنگ سے بچانے کے لیے خلیجی ممالک نے سفارتی محاذ سنبھال لیا ہے۔ اس سلسلے میں قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان بن جاسم الثانی نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ سے ایک اہم ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق دونوں برادر ممالک کے رہنماؤں نے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران دوطرفہ برادرانہ تعلقات اور انہیں مزید مضبوط و مستحکم بنانے کے طریقوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس کے علاوہ بات چیت کا بنیادی محور خطے کی تازہ ترین اور انتہائی حساس صورتحال رہی، خاص طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت کے بعد پیدا ہونے والے نئے بحران اور سفارتی کوششوں کے تناظر میں سنجیدہ گفتگو کی گئی۔ قطری وزیراعظم نے اس موقع پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خطے کو کسی بھی صورت غیر ضروری کشیدگی اور بلاجواز فوجی حملوں کے بھیانک نتائج سے محفوظ رکھا جانا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے عالمی تجارتی گزرگاہ کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) سے بین الاقوامی بحری آمدورفت کی آزادی کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے تاکہ عالمی معیشت متاثر نہ ہو۔ شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی کا کہنا تھا کہ کشیدگی میں کمی لانے کے لیے صرف مکالمے اور سفارت کاری کے راستے کو ہی جاری رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مفاہمتی یادداشت کے تحت اب تک حاصل ہونے والی پیش رفت کو آگے بڑھایا جائے تاکہ علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کو مضبوط بنایا جا سکے۔انہوں نے قطر کے روایتی منصفانہ موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دوحہ، امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی مکمل حمایت کرتا ہے تاکہ تمام تر اختلافات کو پرامن اور سفارتی طریقوں سے حل کیا جا سکے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ خطے میں استحکام، باہمی تعاون اور ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنا ہی دونوں خلیجی ممالک کی ترجیح ہے تاکہ خطے کے عوام کے مشترکہ مفادات کا تحفظ اور فروغ ممکن ہو سکے۔