LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں ترمیم اور ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 منظور پنجاب میں15 دسمبر سے 15 جنوری کے درمیان بلدیاتی انتخابات کروانے پر اتفاق مریم نواز سے استحکام پاکستان پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی کی ملاقات، سیاسی امور پر تبادلہ خیال لاہور: چیف جسٹس پاکستان اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کے اعزاز میں استقبالیہ ڈیزل سستا ہونے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 10 فیصد کمی پٹرولیم لیوی واپس نہ لی تو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریں گے: حافظ نعیم الرحمن عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے خلاف حکومتی درخواست اعتراض لگا کر واپس حوثی حملے میں زخمی 6 پاکستانی ملاح وطن واپس، 2 میتیں بھی منتقل محنت اور خون پسینے کی کمائی کو رشوت کی نذر نہیں ہونے دیا جائے گا: مریم نواز وزیراعظم نے اپوزیشن کو معاملات طے کرنے کی دعوت دے دی ملائیشیا کے وزیر داخلہ 2 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے ملک کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش، سیلاب کا خدشہ وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب، امن و امان، قانون سازی، بانی کے معاملے پر غور ہوگا ملک بھر کے دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی صورتحال: تربیلا، منگلا اور چشمہ میں ریکارڈ اسٹاک موجود مریم نواز کا ستھرا پنجاب ورکر کو ہر ماہ 5 تاریخ سے قبل ادائیگی یقینی بنانے کا حکم

اسرائیلی فوج کی لبنان میں موجودگی کو توسیع دینے پر لبنانی شہریوں کا شدید احتجاج

Web Desk

27 June 2026

لبنان اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے حالیہ معاہدے میں لبنانی سرزمین پر اسرائیلی فوج کی موجودگی کو توسیع دینے کے فیصلے پر لبنانی عوام کا غصہ سڑکوں پر آ گیا ہے۔ دارالحکومت بیروت سمیت ملک کے کئی بڑے شہروں میں شہریوں نے سڑکوں پر نکل کر شدید احتجاج کیا، ٹائر جلائے اور حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔

یہ متنازع مذاکرات امریکہ کی سرپرستی میں ہوئے، جس میں طے پایا ہے کہ اسرائیل تب تک جنوبی لبنان میں اپنی فوج برقرار رکھ سکے گا جب تک وہ خود یہ سمجھے گا کہ اس کے شہریوں کو سیکیورٹی خطرات لاحق ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے مطابق، اس فریم ورک معاہدے کے تحت درج ذیل اہم فیصلے کیے گئے ہیں ۔ معاہدے میں حزب اللہ کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنے اور اس کے عسکری بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کے خاتمے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ معاہدے کے تحت سیکیورٹی اور فوجی معاملات کی نگرانی کے لیے ایک سہ فریقی فوجی رابطہ گروپ قائم کیا جائے گا۔

لبنانی صدر جوزف عون  نے عوام کو یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ اسرائیلی افواج بالآخر لبنان کی سرزمین سے باہر نکل جائیں۔حزب اللہ نے اس معاہدے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ لبنان اسرائیل معاہدہ دراصل “امریکہ ایران اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” کو سبوتاژ کرنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے۔ اس معاہدے  کے بعد پھوٹنے والے عوامی احتجاج نے لبنان کی سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال کو انتہائی سنگین بنا دیا ہے۔