LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ کا 4 جولائی کو یومِ آزادی پر امریکی تاریخ کے سب سے بڑے اور منفرد ایئر شو کا اعلان عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں مزید ساڑھے چار فیصد کی کمی کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا مالیاتی نیٹ ورک بے نقاب، متعدد افراد گرفتار پاکستان میں 60 دن کے اندر ادویات پر بارکوڈ متعارف کرایا جائے گا، مصطفیٰ کمال عالمی و مقامی سطح پر سونے چاندی کی قیمتوں میں کمی امریکا نے زلزلے سے متاثر وینزویلا پر سے پابندیاں اُٹھالیں عمران خان کو 22 اور بشریٰ بی بی کو 24 گھنٹے قیدِ تنہائی میں رکھا جاتا ہے، علیمہ خان امریکی پاسپورٹ کے اعزازی ڈیزائن پر ٹرمپ کی تصویر توجہ کا مرکز بن گئی 18 سال سے کم عمر کی شادی کیخلاف قانون فیڈرل شریعت کورٹ میں چیلنج سکیورٹی فورسز کی خاران اور مستونگ میں کارروائیاں، 8 دہشت گرد ہلاک اسحاق ڈار کا عباس عراقچی سے رابطہ، امن و استحکام کے عزم کا اعادہ امریکی جج کا بڑا حکم؛ گوتم اڈانی کے خلاف فوجداری مقدمہ ختم کرنے پر محکمہ انصاف سے تحریری جواز طلب ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز پر چار بار حملہ کیا، یہ اقدام پسند نہیں آیا: ٹرمپ پاکستان عالمی برادری میں امن کے داعی کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے: وزیراعظم پاکستان کا سوڈان میں تشدد کے فوری خاتمے، بلا رکاوٹ امداد فراہم کرنے کا مطالبہ

عمران خان کو 22 اور بشریٰ بی بی کو 24 گھنٹے قیدِ تنہائی میں رکھا جاتا ہے، علیمہ خان

Web Desk

27 June 2026

بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے اپنے بھائی کو جیل میں مبینہ طور پر قیدِ تنہائی (سولیٹری کنفائنمنٹ) میں رکھنے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دینے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے باقاعدہ رجوع کر لیا ہے۔ بیرسٹر سلمان صفدر کی وساطت سے دائر کی جانے والی اس تزویراتی درخواست میں علیمہ خان نے سپرنٹنڈنٹ جیل، آئی جی جیل خانہ جات، چیئرمین نیب، ڈی جی ایف آئی اے اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS) کے ایم ایس کو فریق بنایا ہے۔ ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی اس درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 8 اپریل کو وکلاء کے ساتھ ہونے والی قانونی میٹنگ کے دوران یہ سنگین انکشاف سامنے آیا کہ بانی پی ٹی آئی کو روزانہ 22 گھنٹے اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو پورے 24 گھنٹے قیدِ تنہائی میں بند رکھا جاتا ہے، جو کہ بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

درخواست گزار کے مطابق، گزشتہ 6 ماہ کے طویل عرصے سے بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ان کی فیملی، قریبی رشتہ داروں یا پارٹی کی قیادت میں سے کسی بھی فرد کی کوئی ملاقات نہیں کرائی گئی، جس سے ان کی ذہنی و جسمانی صحت شدید متاثر ہو رہی ہے۔ علیمہ خان نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کو قیدِ تنہائی میں رکھنے کا کوئی بھی ذکر یا حکم نامہ ان کے خلاف آنے والے کسی بھی عدالتی فیصلے میں سرے سے موجود ہی نہیں ہے، لہذا ان کے بھائی کو اس طرح الگ تھلگ بیرک میں رکھنا قانون کی نظر میں ایک غیر انسانی رویہ ہے۔ درخواست میں بانی پی ٹی آئی کی صحت کا تذکرہ کرتے ہوئے واضح کیا گیا کہ انہوں نے وکلاء کو بتایا ہے کہ قیدِ تنہائی کے ماحول اور مناسب طبی معائنے کی عدم دستیابی کے باعث ان کی ایک آنکھ 85 فیصد تک متاثر ہو چکی ہے، جبکہ عدالتی سزا کے بغیر قیدِ تنہائی میں رکھنا بذاتِ خود ایک سخت ترین سزا تصور کی جاتی ہے۔

علیمہ خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے مخلصانہ استدعا کی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں قیدِ تنہائی میں رکھنے کے اس عمل کو فوری طور پر غیر قانونی اور آئین کے خلاف قرار دیا جائے اور انہیں عام قیدیوں کی طرح بنیادی حقوق فراہم کیے جائیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بشریٰ بی بی کی بیٹی کی جانب سے بھی اپنی والدہ کو قیدِ تنہائی میں رکھنے کے مروجہ اقدام کے خلاف عدالت میں ایک الگ درخواست دائر کی جا چکی ہے، جس کے بعد اب عمران خان کی صحت اور جیل مینوئل پر عملدرآمد کا یہ حساس معاملہ ہائی کورٹ کے روبرو سماعت کے لیے پیش ہو گا۔