LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
عمران خان کو 22 اور بشریٰ بی بی کو 24 گھنٹے قیدِ تنہائی میں رکھا جاتا ہے، علیمہ خان امریکی پاسپورٹ کے اعزازی ڈیزائن پر ٹرمپ کی تصویر توجہ کا مرکز بن گئی 18 سال سے کم عمر کی شادی کیخلاف قانون فیڈرل شریعت کورٹ میں چیلنج سکیورٹی فورسز کی خاران اور مستونگ میں کارروائیاں، 8 دہشت گرد ہلاک اسحاق ڈار کا عباس عراقچی سے رابطہ، امن و استحکام کے عزم کا اعادہ امریکی جج کا بڑا حکم؛ گوتم اڈانی کے خلاف فوجداری مقدمہ ختم کرنے پر محکمہ انصاف سے تحریری جواز طلب ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز پر چار بار حملہ کیا، یہ اقدام پسند نہیں آیا: ٹرمپ پاکستان عالمی برادری میں امن کے داعی کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے: وزیراعظم پاکستان کا سوڈان میں تشدد کے فوری خاتمے، بلا رکاوٹ امداد فراہم کرنے کا مطالبہ ایران نے امریکی حملے کو جنگ بندی کی ’’لاپروا خلاف ورزی‘‘ قرار دیدیا ایران کا امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ایران نے کشیدگی بڑھائی تو تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا: وینس امریکی فوج کے ایران پر فضائی حملے آبنائے ہرمز استعمال کرنے پر فیس ادا کرنی ہو گی: بلومبرگ کا دعویٰ ایران کی جانب سے بحری جہازوں پر داغے گئے ڈرونز جنگ بندی معاہدے کی احمقانہ خلاف ورزی ہے: امریکی صدر

روس اور یوکرین کے درمیان 160، 160 جنگی قیدیوں کا تبادلہ

Web Desk

27 June 2026

روس اور یوکرین کے درمیان جنگی قیدیوں کا ایک اور بڑا تبادلہ کامیابی سے عمل میں آیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک نے مجموعی طور پر 320 جنگی قیدیوں کو رہا کر کے ایک دوسرے کے حوالے کر دیا ہے۔ روسی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ بیان کے مطابق، طے پانے والے معاہدے کے تحت کیف کے زیرِ کنٹرول علاقوں سے 160 روسی فوجیوں کو بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے، جبکہ اس کے بدلے روس نے بھی اپنی تحویل میں موجود 160 یوکرینی جنگی قیدیوں کو یوکرین کے حوالے کر دیا ہے۔

روسی حکام نے بتایا کہ رہا ہونے والے تمام روسی فوجی اس وقت بیلاروس پہنچ چکے ہیں، جہاں انہیں ہنگامی بنیادوں پر فوری نفسیاتی اور طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ اس بحالی کے عمل کے دوران روس کی انسانی حقوق کی کمشنر یانا لانتراتوا بھی فوجیوں سے ملاقاتیں کر کے ان کی صورتحال کا جائزہ لے رہی ہیں۔ بیان کے مطابق، بیلاروس میں ابتدائی طبی معائنے اور نفسیاتی کونسلنگ کے بعد تمام اہلکاروں کو مزید علاج، دیکھ بھال اور مکمل بحالی کے لیے جلد روس منتقل کر دیا جائے گا، جہاں وزارتِ دفاع کے خصوصی طبی مراکز میں ان کی دیکھ بھال کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ روسی وزارتِ دفاع نے اس اہم تبادلے کو ممکن بنانے پر متحدہ عرب امارات (UAE) کے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ادا کیے گئے مخلصانہ اور تزویراتی ثالثی کردار کو انتہائی سراہا ہے اور اماراتی حکام کا شکریہ ادا کیا ہے۔