LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کوہاٹ پولیس لائنز مسجد حملے میں شہید ہونے والوں کی نماز جنازہ ادا تحریک تحفظ آئین کا اجلاس، 27 ستمبر کا احتجاج ملک بھر میں پھیلانے کا فیصلہ وزیراعظم خصوصی ریلیف سکیم کا پورے پاکستان میں کامیاب اجرا پٹرولیم لیوی ختم نہ ہوئی تو 20 ستمبر سے سپر لانگ مارچ ہوگا: حافظ نعیم الرحمان حکومت تحریک انصاف کو سپیس دینے کیلئے تیار نہیں: فواد چودھری لندن سے بنگلادیش جانیوالی پرواز میں مسافروں کے درمیان جھگڑے کی ویڈیو وائرل امریکا میں تربیتی مشق کے دوران ایف 16 طیارہ گر کر تباہ اسلام آباد میں احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر پولیس اہلکاروں کی چھٹیوں پر پابندی اسلام آباد میں احتجاج سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں: محسن نقوی پٹرول کی قیمت میں اضافہ عوام کی مشکلات بڑھا رہا ہے، گورنر خیبر پختونخوا کوہاٹ پولیس لائنز میں دھماکہ،15افراد شہید،25 افراد زخمی اسلام آباد ہائیکورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا؛ بنیادی حقوق پر آئینی توازن قائم رکھنے کا حکم ایران سے ڈیل ہو نہ ہو، جنگ میں جیت امریکا کی ہوگی: ٹرمپ چھوٹے کاروباروں کے لیے شریعہ کمپلائنٹ ڈیجیٹل فنانسنگ کی منظوری پاکستان کے عوام کی بدحالی کسی بھی سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں: حافظ نعیم الرحمان

غزہ میں جنگ بندی معاہدہ یکطرفہ، تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے: خواجہ آصف

Web Desk

30 November 2025

ماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر خواجہ آصف کا اپنے پیغام میں کہنا تھا کہ 10 اکتوبر کو جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے کم از کم 352 فلسطینی مارے جا چکے ہیں، جنگ کے آغاز سے اب تک غزہ میں 70,000 سے زائد افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شرم الشیخ میں دستخط کیے گئے اس معاہدے کا مقصد خطے میں استحکام لانا تھا، لیکن اسرائیل کی کارروائیوں نے اس کی معاہدے پر عمل درآمد کی نیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کا نسل کشی کا عمل ختم نہیں ہوا، اور بین الاقوامی برادری، خصوصاً مغربی حکومتوں، کو چاہیے کہ اسرائیل پر بین الاقوامی قانون کی پابندی کے لیے دباؤ جاری رکھیں۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے مزید کہا کہ وہ مسلم ممالک جنہوں نے معاہدے کی حمایت کی تھی، ترکی، مصر اور قطر کو جاری تشدد کے پیشِ نظر اپنے مؤقف پر نظرِ ثانی کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے، ترکیہ صدر رجب طیب اردوان پہلے ہی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔