LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
عمران خان سے کل جیل میں رفقاء کی ملاقات، فہرست جیل حکام کو بھجوا دی گئی پیٹرولیم ڈیلرز کا حکومتی ریلیف سکیم پر اعتراض، سستا پیٹرول دینے سے انکار فیلڈ مارشل عاصم منیر سے امریکی وفد کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر گفتگو سیاسی کشیدگی سے سب کا نقصان ہوگا، تھرڈ فورس آنے سے پہلے معاملات حل کیے جائیں: بیرسٹر گوہر وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت پی ایم اسپیشل ریلیف اسکیم کا جائزہ اجلاس، فیول سبسڈی کے لیے سہولت ڈیسک قائم کرنے کی ہدایت پاکستان کو پہلے پائیدار سویرن پانڈا بانڈ کے اجرا پر 2026 اے پی اے سی کلائمیٹ بانڈز ایوارڈ سے نواز دیا گیا پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی میں افغان سرزمین استعمال ہورہی ہے ، طلال چودھری ایران اور امریکا مزید کشیدگی روک کر مذاکرات کی طرف واپس آئیں: چین وزیراعظم کا چھوٹے کاروبار کی معاونت کے لیے حکمت عملی بنانے کا حکم عمران خان کی ہسپتال منتقلی کا کیس: سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سے معاونت طلب کر لی 27 ستمبر لانگ مارچ سے قبل پی ٹی آئی رہنماؤں کو ہراساں اور گرفتار نہ کرنے کا حکم چین پاکستان میں جدید طرز کے لا انفورسمنٹ سینٹر کے قیام میں تعاون کرے گا پٹرولیم لیوی کا خاتمہ چاہیے، خیرات نہیں، حافظ نعیم الرحمان اوزون تہہ کا تحفظ نئی نسل کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے، مریم نواز مکہ پر ڈرون حملے کی کوشش قابل مذمت، حرمین شریفین کے تحفظ کیلئے سعودیہ کیساتھ ہیں: وزیراعظم

ایف سی ہیڈ کوارٹرز خودکش دھماکا: تینوں حملہ آوروں کے افغان شہری ہونے کی تصدیق

Web Desk

30 November 2025

پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈ کوارٹرز پر ہونے والے خودکش دھماکوں سے متعلق تفتیش جاری کر دی گئی۔

تفتیشی حکام کے مطابق نادرا نے ایف سی ہیڈ کوارٹرز پر حملہ کرنے والے تینوں حملہ آوروں کی افغان شہریت کی تصدیق کر دی ہے، تاہم نادرا کو حملہ آوروں کی مزید تفصیلات تاحال موصول نہیں ہوئیں۔تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے سے متعلق اب تک 100 سے زیادہ مشتبہ افراد سے تفتیش کی جا چکی ہے، حملہ آوروں کی رحمان بابا قبرستان سے فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز تک آمد کی فوٹیج بھی حاصل کر لی گئی ہے۔حکام نے مزید بتایا کہ تفتیشی ٹیم سہولت کار کی کھوج لگا رہی ہے، حملے کے دن خودکش حملہ آوروں کے زیر استعمال کوئی موبائل فون نہیں تھا۔واضح رہے کہ 24 نومبر کو فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز میں خودکش دھماکے ہوئے تھے جس میں 3 ایف سی اہلکار شہید جبکہ تینوں حملہ آور ہلاک ہوئے تھے۔پولیس نے فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز پشاور پر دہشت گردوں کے حملے کا مقدمہ سی ٹی ڈی میں درج کرایا تھا۔

پولیس کے مطابق مقدمہ دہشت گردی کی دفعات کے تحت نامعلوم دہشت گردوں کے خلاف مقامی ایس ایچ او عبداللہ جلال کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ایف آئی آر کے متن کے مطابق دہشت گردوں نے ملکی سالمیت اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا، تین موٹر سائیکل سوار دہشت گردوں نے ایف سی ہیڈکوارٹرز پر حملہ کیا، ایک حملہ آور نے گیٹ پر خود کو دھماکے سے اڑایا، دو حملہ آور فائرنگ کرتے ہوئے اندر داخل ہوئے، جائے وقوعہ سے 27 سے زیادہ خول برآمد ہوئے۔