اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا ہنگامی اجلاس، اسپیکر قومی اسمبلی کے رویے کے خلاف مذمتی قرارداد منظور، بجٹ مسترد
Web Desk
23 June 2026
اسلام آباد میں اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا ایک اہم اور ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک کی موجودہ جیو پولیٹیکل، پارلیمانی اور دگرگوں معاشی صورتحال پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں اسپیکر قومی اسمبلی کے معاندانہ رویے، پبلک میڈیا پر اپوزیشن کی سنسرشپ، عوام دشمن بجٹ اور سیاسی اسیران کی طویل سزاؤں کے خلاف انتہائی سخت فیصلوں پر مبنی اعلامیہ جاری کیا گیا۔
اجلاس میں اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے قائدِ حزبِ اختلاف (اپوزیشن لیڈر) کے خلاف دیے گئے نامناسب ریمارکس اور غیر آئینی طرزِ عمل پر متفقہ طور پر مذمتی قرارداد منظور کی گئی۔ شرکاء نے یاد دلایا کہ اسپیکر پورے ایوان کا کسٹوڈین اور تمام اراکین کا محافظ ہوتا ہے، لیکن موجودہ اسپیکر کا رویہ غیر ذمہ دارانہ، جانبدارانہ اور جمہوری روایات کے یکسر منافی ہے۔ ایوان میں اپوزیشن اراکین کی آواز دبائی جا رہی ہے اور سرکاری میڈیا پر ان کی تقاریر کی کوریج اور نشریات پر مکمل سینسرشپ عائد ہے۔
پارلیمانی پارٹی نے موجودہ وفاقی بجٹ کو متفقہ طور پر ‘عوام دشمن’ قرار دے کر مسترد کر دیا۔ اپوزیشن کا مؤقف تھا کہ حکومت نے صرف کاغذی الفاظ کے ہیر پھیر سے معاشی حقائق کو چھپانے کی ناکام کوشش کی ہے، جبکہ زمینی حقائق یہ ہیں کہ اس بجٹ میں عام آدمی، کسان، مزدور، سرکاری ملازمین اور نوجوانوں کو ریلیف دینے کے لیے کوئی عملی اقدام شامل نہیں ہے۔ تاہم، اجلاس میں بجٹ سیشن کے دوران عوامی مسائل اور مہنگائی کو بھرپور طریقے سے اجاگر کرنے پر اپوزیشن کی بجٹ ٹیم کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
اجلاس کے تمام اراکین نے بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی طویل اور غیر قانونی قید پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کی ناسازِ طبیعت کے پیشِ نظر انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جائے تاکہ ان کا شفاف طبی معائنہ اور علاج ممکن ہو سکے، اور ان کے خاندان و سیاسی رفقاء سے ملاقاتوں پر عائد غیر قانونی پابندی فی الفور ختم کی جائے۔ پارلیمانی پارٹی نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی قید کو بدترین سیاسی انتقام کا تسلسل قرار دیتے ہوئے ان کی اور ملک بھر کی جیلوں میں قید تمام بے گناہ سیاسی کارکنان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ اجلاس کے شرکاء نے پی ٹی آئی قیادت اور کارکنان کو 9 مئی کے واقعات سے متعلق قائم مقدمات میں سنائی جانے والی حالیہ سزاؤں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔ اراکین کا کہنا تھا کہ یہ تمام یکطرفہ سزائیں سیاسی مخالفین کو کچلنے کا حربہ ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان تمام مقدمات کا قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق ازسرِ نو شفاف جائزہ لیا جائے اور انتقامی کارروائیاں بند کی جائیں۔
اجلاس کے اختتام پر اپوزیشن نے اپنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ آئین کی بالادستی، پارلیمان کے تقدس، اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر اپنی جمہوری جدوجہد اور آواز بلند کرتی رہے گی۔
متعلقہ عنوانات
ایرانی صدر دورہ پاکستان مکمل کرنے کے بعد وطن روانہ
23 June 2026
لندن ہاکی پرو لیگ میں پاکستانی پرچم کی غلط نمائش, انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کی صدر پی ایچ ایف محی الدین احمد وانی سے غیر مشروط معذرت
23 June 2026
وزیراعظم اور ایرانی صدر کی پریس کانفرنس، مشترکہ امن کوششوں کا اعادہ
23 June 2026
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو ‘سی پی ایس پی’ کی جانب سے اعزازی فیلوشپ ڈگری سے نواز دیا گیا
23 June 2026
آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی
23 June 2026
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت خطے میں امن کی بڑی کامیابی ہے: وزیراعظم
23 June 2026
لبنان اور اسرائیل میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز، واشنگٹن میں مذاکرات کا پانچواں دور شروع
23 June 2026
پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس، چار بلز کی منظوری
23 June 2026