LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھول دی گئی، ایران کے ساتھ متعدد معاملات پر پیشرفت ہوئی: جے ڈی وینس ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کل ایک روزہ دورے پر پاکستان آنے کا امکان چین کی جانب سے پاکستان اور قطر کی ثالثی کوششوں کی حمایت سوئٹزرلینڈ میں پہلا مذاکراتی دور کامیابی سے مکمل، کردار ادا کرتے رہیں گے: وزیراعظم بشریٰ بی بی کی بیٹی کا اڈیالہ جیل انتظامیہ کے خلاف کارروائی اور مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ، پولیس کو درخواست موصول پنکی کیس میں پردہ نشینوں کے نام ہیں لیکن کچھ بھی نہیں ہوگا,سردار لطیف کھوسہ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا سوچا تھا ہاتھ ملانے سے معاملات بہتر ہونگے: بیرسٹر گوہر امریکہ اور ایران کے درمیان 60 روزہ روڈ میپ پر اتفاق خوش آئند ہے: سوئٹزر لینڈ ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے معاملے پر اٹلی سمیت نیٹو اتحادیوں پر کڑی تنقید بجٹ کا بڑا حصہ سود کی ادائیگی پر خرچ ہونا عوام پر اضافی بوجھ ہے: حافظ نعیم اپنی جماعت کا دباؤ: برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹارمر کے آج استعفے کا امکان جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان کا حلف اٹھا لیا گلگت بلتستان اسمبلی کے 30 نو منتخب ارکان نے حلف اٹھا لیا ملک کے مختلف علاقوں میں آج بھی بارش کی پیشگوئی

برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا

Web Desk

22 June 2026

برطانیہ کے سیاسی بحران میں ایک اور بڑا بریک تھرو سامنے آیا ہے جہاں شدید اندرونی دباؤ کے بعد برطانوی وزیرِ اعظم سر کیئر اسٹارمر نے بالاخر اپنے عہدے سے باقاعدہ مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔

10 ڈاؤننگ اسٹریٹ پر ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے برطانوی وزیرِ اعظم نے اپنے مستقبل کے لائحہ عمل اور اقتدار کی منتقلی کے حوالے سے اہم ترین تفصیلات سے آگاہ کیا۔کیئر اسٹارمر نے واضح کیا کہ وہ لیبر پارٹی کی نئی قیادت کے انتخاب کا عمل مکمل ہونے تک عارضی طور پر بطور وزیرِ اعظم اپنے فرائض سرانجام دیتے رہیں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ لیبر پارٹی کی قیادت کے انتخاب کے لیے باقاعدہ نامزدگیاں 9 جولائی سے اوپن ہوں گی، جبکہ وہ پارٹی کی نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی (NEC) سے انتخابی شیڈول کو حتمی شکل دینے کی باقاعدہ درخواست کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ استعفے کے فیصلے کے تناظر میں آج صبح ان کی برطانوی بادشاہ کنگ چارلس سے تفصیلی گفتگو بھی ہوئی ہے۔اپنی ہی جماعت کے اندرونی اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بار بار یہ تاثر دیا گیا کہ ہماری پارٹی کمزور اور ختم ہو گئی ہے، چنانچہ میں پارٹی کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے لیبر پارٹی کی لیڈرشپ سے مستعفی ہو رہا ہوں۔

سر کیئر اسٹارمر نے پریس کانفرنس کے اختتام پر عزم ظاہر کیا کہ وہ اقتدار کی اس منتقلی کو منظم، پرامن اور ہموار بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائیں گے اور جو بھی ان کا جانشین منتخب ہوگا، اسے اپنی بھرپور حمایت اور مکمل تعاون فراہم کریں گے۔