LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سعودی عرب نے یمن میں ٹھکانوں پر 32 سے زائد فضائی حملے کئے: حوثیوں کا دعویٰ کم آمدن اور متوسط طبقے کو سستے گھروں کی فراہمی ہماری ترجیح ہے، وزیر اعظم سپریم کورٹ: نصف صدی بعد خاتون کو وراثتی جائیداد کیس میں ریلیف مل گیا اسحاق ڈار کا مصری وزیر خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال چین اور برطانیہ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق، اختلافات مذاکرات سے حل کرنے پر زور دہلی کے سابق چیف سیکرٹری نے خودکشی کرلی حکومت کی 7 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری لانگ مارچ کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے لارجر بنچ تشکیل دے دیا، چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور آئی جیز کل طلب یمن سے سعودیہ پر حملوں سے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ آپریشنل ہوگا: خواجہ آصف مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ امریکی ریاست ٹیکساس میں سوشل سٹڈیز کے متنازعہ تعلیمی نصاب کی منظوری، اسلام سے متعلق نصابی تبدیلیوں پر شدید تنقید امریکی محکمہ محنت نے کگنیزنٹ کے لیے نئے گرین کارڈز (پرم) کا پروسیس معطل کر دیا ایران امریکی جہازوں کو نشانہ بنائے گا تو اپنے ٹینکرز سے ہاتھ دھونا پڑے گا، روبیو امریکی سینٹرل کمانڈ کا 5 ایرانی خام تیل بردار جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ایرانی بحریہ کا آبنائے ہرمز کے داخلی راستے پر امریکی بغیر پائلٹ آبدوز پکڑنے کا دعویٰ

نیویارک: 38 ملین ڈالر میڈیکیڈ فراڈ کیس، پاکستانی نژاد کاروباری شخصیت سمیت 8 افراد گرفتار

Web Desk

19 June 2026

امریکی ریاست نیویارک کے شہر بروکلین میں وفاقی حکام نے ایک مبینہ بڑے مالیاتی اسکینڈل میں کارروائی کرتے ہوئے متعدد افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جن پر الزام ہے کہ وہ میڈیکیڈ کے تحت 38 ملین ڈالر سے زائد کی جعلی ادائیگیوں اور کِک بیک اسکیم میں ملوث رہے۔

گرفتار ہونے والوں میں پاکستانی نژاد معروف کاروباری شخصیت اور کمیونٹی بورڈ 13 کے رکن پرویز صدیقی سمیت سات دیگر افراد شامل ہیں۔

وفاقی الزامات کے مطابق یہ مبینہ اسکیم دو Adult Day Care مراکز اے پی این اے Adult Day Care اور آشیانہ سوشل Adult Day Care کے ذریعے 2019 سے دسمبر 2025 تک چلائی جاتی رہی۔

تحقیقات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بزرگ شہریوں کو ایسے مراکز میں رجسٹر کیا جاتا تھا جہاں وہ اکثر حاضر نہیں ہوتے تھے یا بالکل نہیں جاتے تھے، لیکن ان کے نام پر میڈیکیڈ سے باقاعدہ ادائیگیاں وصول کی جاتی رہیں۔

الزامات کے مطابق بعض افراد کو مراکز میں شامل ہونے کے بدلے نقد رقوم دی جاتی تھیں، جبکہ انہیں دیگر افراد کو بھی شامل کرنے پر کِک بیک فراہم کیا جاتا تھا۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ جعلی حاضری شیٹس تیار کی گئیں، ریکارڈ میں رد و بدل کیا گیا اور فنڈز کو مختلف کمپنیوں کے ذریعے منتقل کر کے چھپانے کی کوشش کی گئی۔

ذرائع کے مطابق اس نیٹ ورک میں بعض مارکیٹرز مخصوص کمیونٹیز کے افراد کو ہدف بنا کر انہیں پروگرام میں شامل کرتے اور مالی فوائد حاصل کرتے تھے۔

وفاقی حکام نے اس کیس میں مزید تحقیقات جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ ملزمان کے خلاف عدالتی کارروائی ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔