LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر عملدرآمد کیلئے کردار ادا کرے گا: دفتر خارجہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے قومی اسمبلی میں بجٹ کی منظوری کا عمل آج باضابطہ طور پر شروع ہوگا امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایران سے مذاکرات کیلئے سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بینظیر بھٹو کی آج 73 ویں سالگرہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکہ ایران تکنیکی سطح کے مذاکرات آج سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے میناب کے مظلوم بچوں اور شہدا کو اپنے طرزِ عمل کا گواہ سمجھتے ہیں، باقر قالیباف اسحاق ڈار مصر پہنچ گئے، علاقائی وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کریں گے امریکا ایران مذاکرات کل شروع ہونے کا امکان، صورتحال بہتر ہونے کا دعویٰ محسن نقوی کی ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات، امریکا سے معاہدے کی صورتحال پر گفتگو گھروں پر ٹاور لگانے والا بل جاہلانہ اور غاضبانہ ہے: حافظ نعیم الرحمان پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے درمیان 70 کروڑ ڈالر کے قرض پروگرام پر دستخط رانا ثنااللہ نے وزیراعظم کی تبدیلی بارے خبریں بے بنیاد قرار دے دیں ڈیمو کریٹس کو سمجھنا چاہیے کہ ہم نے ایران جنگ میں کتنی بڑی کامیابی حاصل کی:ٹرمپ بھارت کی آزاد کشمیر میں امن تباہ کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی: خواجہ آصف

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ آج سوئٹرز لینڈ میں شروع ہوگا

Web Desk

19 June 2026

امریکہ اور ایران کے مابین تاریخی ‘اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت’ (Islamabad Memorandum of Understanding) پر دستخط کے بعد، دونوں حریف ممالک کے مابین امن و مصالحت کے عمل کو حتمی شکل دینے کے لیے مذاکرات کا اگلا کلیدی مرحلہ آج سوئٹزرلینڈ کے خوبصورت اور تزویراتی شہر برجنسٹاک (Bürgenstock) میں شروع ہو رہا ہے۔

سوئس وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، اس ملاقات کا بنیادی مقصد اب تک طے پانے والے امن نکات اور معاہدے پر تزویراتی عمل درآمد (Implementation) کے روڈ میپ کو واضح کرنا ہے۔

اس اعلیٰ سطحی مذاکراتی عمل میں نہ صرف دونوں بنیادی فریقین (امریکہ اور ایران) آمنے سامنے ہوں گے، بلکہ اس تاریخی کامیابی کو ممکن بنانے والے دو اہم ترین ثالث ممالک پاکستان اور قطر کے اعلیٰ سطحی نمائندے اور سفارت کار بھی برجنسٹاک میں تزویراتی نگرانی کے لیے موجود رہیں گے۔ اگرچہ ماضی قریب میں دونوں سربراہانِ مملکت کے مابین ڈیجیٹل دستخطوں کے بعد وزرائے اعظم کی سطح پر براہِ راست رابطے ہوئے ہیں، تاہم گراؤنڈ لیول پر معاہدے کے نفاذ کے لیے یہ چار ملکی بیٹھک انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

برجنسٹاک میں ہونے والی اس تزویراتی بات چیت کو انتہائی خفیہ اور حساس رکھا جا رہا ہے، جس کی چند وجوہات درج ذیل ہیں: سوئس حکومت اور متعلقہ وزارتوں کی جانب سے تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اس نازک بات چیت میں امریکہ اور ایران کے کون سے اعلیٰ حکام یا سفارت کار شرکت کر رہے ہیں۔ یہ ملاقات باقاعدہ فیس ٹو فیس (روبرو) ہوگی یا بیک چینل سفارت کاری کا حصہ، اس کی حتمی نوعیت کو بھی تاحال صیغۂ راز میں رکھا گیا ہے۔

نئے اعلامیے کی تبدیلیاں: سوئس حکومت نے میٹنگ کے سیکیورٹی اور سفارتی پروٹوکول کی وجہ سے مزید تفصیلات فراہم کرنے سے معذرت کی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میٹنگ میں دیگر عالمی طاقتوں یا ممالک کی شرکت سے متعلق تذکرہ بھی سوئس انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ نئے ترمیمی اعلامیے سے نکال دیا گیا ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ فوکس صرف بنیادی فریقین اور مرکزی ثالثین پر ہی رہے گا۔

عالمی سفارتی حلقے سوئٹزرلینڈ کے شہر برجنسٹاک میں ہونے والے ان مذاکرات کو مشرقِ وسطیٰ اور بین الاقوامی امن کے لیے ایک عظیم سنگِ میل قرار دے رہے ہیں، جہاں پاکستان کا تزویراتی ثالثی پورٹ فولیو دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے۔