امریکی محکمۂ جنگ نے انڈو پیسیفک کمانڈ کا نام دوبارہ پیسیفک کمانڈ رکھ دیا
Web Desk
17 June 2026
امریکی محکمۂ جنگ (پینٹاگون) نے ایک انتہائی اہم تزویراتی اور جغرافیائی سیاسی فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی انڈو پیسیفک کمانڈ (USINDOPACOM) کا نام باضابطہ طور پر تبدیل کر کے دوبارہ امریکی پیسیفک کمانڈ (USPACOM) رکھ دیا ہے۔
یہ کمانڈ پہلی بار یکم جنوری 1947 کو صدر ہیری ایس ٹرومین کے دورِ حکومت میں USPACOM کے نام سے ہی قائم کی گئی تھی، جو سات دہائیوں سے زائد عرصے تک اسی نام سے کام کرتی رہی۔ یہ امریکی فوج کی تمام مشترکہ جنگی کمانڈز میں سب سے قدیم اور رقبے و نفری کے لحاظ سے سب سے بڑی کمانڈ تصور کی جاتی ہے۔
محکمۂ جنگ کے مطابق، اس تاریخی نام کی بحالی کا بنیادی مقصد کمانڈ کی طویل عسکری روایات کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور بحرالکاہل کے خطے میں خدمات انجام دینے والے اہلکاروں میں فخر، وابستگی اور مشترکہ شناخت کے احساس کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ سرکاری بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد علاقائی سلامتی کے ڈھانچے کے قیام، کوریائی جنگ، ویتنام جنگ اور متعدد انسانی ہمدردی کی انسدادی کارروائیوں میں مشترکہ افواج کی قیادت اور ہم آہنگی کے باعث USPACOM کا نام کئی دہائیوں پر محیط عسکری ورثے اور مضبوط علاقائی شراکت داریوں کی علامت بن چکا ہے۔
پینٹاگون نے یہ نکتہ بھی واضح کیا ہے کہ نام کی اس تبدیلی کے باوجود کمانڈ کے آپریشنل دائرۂ کار (Area of Responsibility) میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ اس کی تزویراتی ذمہ داری امریکہ کے مغربی ساحل سے ملحقہ سمندری علاقوں سے لے کر بھارت کی مغربی سرحد تک بدستور برقرار رہے گی، جبکہ علاقائی اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک آزاد اور کھلے خطے کے تحفظ کا مشن بھی جاری رہے گا۔
واشنگٹن کی جانب سے امریکی پیسیفک کمانڈ کا پرانا نام بحال کرنے کے اس فیصلے پر دفاعی مبصرین نے گہرا تزویراتی تجزیہ پیش کیا ہے، جس کے اہم خدوخال درج ذیل ہیں:
بین الاقوامی تجزیہ کار اس فیصلے کو جنوبی ایشیا سے متعلق امریکی اسٹریٹجک سوچ میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت قرار دے رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ اب خطے کو صرف بھارت کے یکطرفہ تناظر میں دیکھنے کے بجائے علاقائی طاقت کے توازن اور حقیقی زمینی حقائق کی بنیاد پر پرکھ رہا ہے۔گزشتہ برسوں میں بھارت کو انڈو پیسیفک حکمتِ عملی کے مرکزی ستون اور ایک ممکنہ “نیٹ سیکیورٹی پرووائیڈر” کے طور پر پیش کیا جاتا رہا۔ تاہم، پاکستان کے ساتھ بار بار پیدا ہونے والے فوجی و سیاسی بحرانوں نے واضح کیا کہ نئی دہلی نہ تو اپنے ایک ایٹمی ہمسایہ ملک پر اپنی سیاسی شرائط مسلط کر سکا اور نہ ہی بیرونی سفارتی مداخلت کے بغیر علاقائی کشیدگی پر مؤثر انداز میں قابو پانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مبصرین کے مطابق، جو ریاست مسلسل ایسے بحرانوں کا باعث بنے جن کے حل کے لیے بین الاقوامی مداخلت درکار ہو، اس کے لیے بلاچیلنج علاقائی قیادت کا دعویٰ برقرار رکھنا ممکن نہیں رہتا۔ اس نام کی تبدیلی سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ واشنگٹن اب چین کے ساتھ اپنی عالمی اسٹریٹجک مسابقت کو بھارت کی دوطرفہ محاذ آرائیوں سے الگ رکھنا چاہتا ہے۔ امریکہ کا یہ ابھرتا ہوا نقطۂ نظر زیادہ عملی (Pragmatic) ہے، جس کے تحت بھارت بدستور سمندری، تکنیکی اور اقتصادی تعاون کے بعض شعبوں میں شراکت دار تو رہے گا، مگر جنوبی ایشیا میں اسے حاصل غیر محدود اسٹریٹجک حیثیت اب ختم ہو جائے گی۔اس بدلتے ہوئے منظر نامے میں پاکستان کی تزویراتی اہمیت کو اس کے اہم ترین محلِ وقوع، مضبوط جوہری بازدار صلاحیت (Nuclear Deterrence)، اعلیٰ عسکری استعداد، مضبوط انٹیلی جنس نیٹ ورک، اور افغانستان، وسطی ایشیا و خلیجی ممالک تک آسان رسائی کے ساتھ ساتھ انسدادِ دہشت گردی میں اس کے کلیدی کردار سے جوڑا جا رہا ہے۔ بنیادی پیغام یہ ہے کہ امریکہ اب بھارت کا جائزہ اس کے بلند و بانگ دعوؤں کے بجائے عملی نتائج کی بنیاد پر لے رہا ہے، جبکہ پاکستان کو بتدریج ایک ایسے ناگزیر اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کی اہمیت اس کی صلاحیتوں اور حقیقی علاقائی اثر و رسوخ سے وابستہ ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں بھارت کی اسٹریٹجک حیثیت کو نظریاتی بنیادوں پر حد سے زیادہ فروغ دیا گیا تھا، جس کی سب سے بڑی علامت 2018 میں اسی پیسیفک کمانڈ کا نام تبدیل کرکے انڈو پیسیفک کمانڈ رکھنا تھا۔ تاہم، آٹھ برس بعد بدلتے ہوئے حالات اور تلخ علاقائی تجربات کے بعد، ٹرمپ کے موجودہ دوسرے دورِ حکومت میں امریکی توجہ محض امیدوں کے بجائے عملی کارکردگی اور قابلِ پیمائش نتائج (Measurable Results) پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔ پیسیفک کمانڈ کے نام کی یہ بحالی اسی بڑی تبدیلی کا مظہر ہے، جو خواہشات کے مقابلے میں زمینی حقائق کو زیادہ اہمیت دینے کی عکاسی کرتی ہے۔
متعلقہ عنوانات
یران سے مفاہمتی یادداشت حتمی نہیں، معاہدہ پسند نہ آیا تو دوبارہ بمباری ہوسکتی ہے: ٹرمپ
17 June 2026
پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر جناب محمد نواز شریف کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس
17 June 2026
بھارتی رجسٹرڈ طیاروں پر فضائی پابندی 24 جولائی کی صبح تک بڑھا دی۔ پی اے اے نوٹم
17 June 2026
بغیر چمچوں اور پروٹوکول کے باہر نکلیں تاکہ اندازہ ہو،خواجہ اظہار الحسن کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال
17 June 2026
پنجاب نے اپنے اخراجات کو بڑی حد تک محدود کیا، کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا:مریم اورنگزیب
17 June 2026
سی سی ڈی اہلکار کی فائرنگ سے جاں بحق بچی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آگئی
17 June 2026
انسدادِ دہشت گردی عدالت: علیمہ خان احتجاج کیس میں محسن نقوی اور عطا تارڑ کو طلب کرنے کی درخواست پر دلائل مکمل،
17 June 2026
پارٹی میں دھڑے بندی نہیں لیکن کچھ لوگوں کے اختلافات ہیں,علی امین گنڈاپور
17 June 2026