LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی محکمۂ جنگ نے انڈو پیسیفک کمانڈ کا نام دوبارہ پیسیفک کمانڈ رکھ دیا یران سے مفاہمتی یادداشت حتمی نہیں، معاہدہ پسند نہ آیا تو دوبارہ بمباری ہوسکتی ہے: ٹرمپ پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر جناب محمد نواز شریف کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس بھارتی رجسٹرڈ طیاروں پر فضائی پابندی 24 جولائی کی صبح تک بڑھا دی۔ پی اے اے نوٹم بغیر چمچوں اور پروٹوکول کے باہر نکلیں تاکہ اندازہ ہو،خواجہ اظہار الحسن کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال پنجاب نے اپنے اخراجات کو بڑی حد تک محدود کیا، کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا:مریم اورنگزیب سی سی ڈی اہلکار کی فائرنگ سے جاں بحق بچی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آگئی انسدادِ دہشت گردی عدالت: علیمہ خان احتجاج کیس میں محسن نقوی اور عطا تارڑ کو طلب کرنے کی درخواست پر دلائل مکمل، پارٹی میں دھڑے بندی نہیں لیکن کچھ لوگوں کے اختلافات ہیں,علی امین گنڈاپور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس: ایف بی آر کا نیا “فیس لیس آڈٹ سسٹم” اور ٹیکس چوری کے ہولناک انکشافات محسن نقوی سے برطانوی نائب وزیر خارجہ کی ملاقات، انسداد دہشتگردی تعاون پر اتفاق پاکستان ریلوے کی 15 ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ، 5 کے ٹھیکے دیے جا سکے سندھ کابینہ نے مالی سال 27-2026 کے بجٹ کی منظوری دے دی پاکستان کا 30 ایرانی شہریوں کی واپسی میں سہولت فراہم کرنے کا اعلان حکومت نے معیشت کو بحران سے نکال کر استحکام کی راہ پر گامزن کیا، عطا تارڑ

یران سے مفاہمتی یادداشت حتمی نہیں، معاہدہ پسند نہ آیا تو دوبارہ بمباری ہوسکتی ہے: ٹرمپ

Web Desk

17 June 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فریقین کے مابین پیش رفت پر کھل کر بات کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ طے پانے والی حالیہ مفاہمتی یادداشت (MoU) ابھی ایک عبوری پیش رفت ہے اور یہ کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہے۔ انہوں نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر انہیں مستقبل میں ہونے والا حتمی معاہدہ پسند نہ آیا تو امریکہ دوبارہ ایران پر بمباری اور فوجی کارروائی کی طرف جا سکتا ہے۔

فرانس میں منعقدہ جی سیون (G7) سربراہی اجلاس کے موقع پر مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے اہم دوطرفہ ملاقات کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایران، عالمی معیشت اور خطے کی صورتحال پر تفصیلی روشنی ڈالی:

سرمایہ کاری اور پابندیاں: امریکی صدر نے واضح الفاظ میں اعلان کیا کہ کوئی بھی امریکی کمپنی ایران میں کسی قسم کی سرمایہ کاری نہیں کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایران کے ساتھ اس مفاہمتی یادداشت میں فوری طور پر پابندیوں میں نرمی شامل نہیں ہے، البتہ پابندیوں میں کسی بھی ممکنہ نرمی پر حتمی معاہدے کے بعد کے مراحل میں غور کیا جائے گا۔

جوہری ہتھیاروں پر پابندی اور آبنائے ہرمز: ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے تزویراتی موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران کو کسی بھی صورت میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ تاہم، انہوں نے یہ امید ظاہر کی کہ ایران کے ساتھ حتمی معاہدہ مکمل ہونے کے بعد دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ “آبنائے ہرمز” (Strait of Hormuz) تجارتی آمد و رفت کے لیے مکمل طور پر کھل جائے گی۔

عالمی معیشت پر مثبت اثرات: امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ہونے والی اس اہم پیش رفت کے نتیجے میں عالمی اسٹاک مارکیٹیں بلندیوں کو چھو رہی ہیں اور بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ ان کے بقول، اگر یہ مفاہمت نہ ہوتی تو اس وقت پوری دنیا ایک شدید اور بدترین معاشی دباؤ کا شکار ہو جاتی۔

امداد اور فنڈز کی تردید: صدر ٹرمپ نے میڈیا میں گردش کرنے والی ان خبروں کو یکسر بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران سے متعلق 300 ارب ڈالر کے فنڈز جاری کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے صاف کہا کہ امریکہ ایران میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کر رہا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے بتایا کہ خطے میں عسکری تنظیم حزب اللہ سے نمٹنے کے حوالے سے شامی قیادت کے ساتھ بھی سفارتی سطح پر بات چیت کی گئی ہے۔

مصر کے ساتھ دوطرفہ معاملات: ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ نے بتایا کہ مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے ساتھ دوطرفہ تجارت میں اضافے اور مصر کے متنازع ڈیم (Dam) کے معاملے پر بھی تفصیلی بات چیت ہوگی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ امریکہ مصر کے اس اہم ڈیم منصوبے میں اپنا تکنیکی و انتظامی تعاون فراہم کرے گا۔

اس موقع پر مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے مشرقِ وسطیٰ میں طویل مدتی امن کے قیام کے لیے ہونے والی اس نئی سفارتی پیش رفت پر صدر ٹرمپ کو باقاعدہ مبارک باد پیش کی اور کہا کہ وہ ایران کے ساتھ ایک جامع اور حتمی معاہدے کے منتظر ہیں۔