LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایم او یو میں واضح کہا ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوگا: ٹرمپ ایران امریکہ معاہدہ میں پاکستان کا کردار ثالث کا ہے: سکیورٹی ذرائع صدرِ مملکت نے 4 اہم بلوں کی باضابطہ منظوری دے دی وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان پنجاب بجٹ 2026-27 پیش ایران معاہدہ لبنان پر اسرائیلی حملے کے باوجود برقرار رہ سکتا ہے: ٹرمپ، امیر قطر سے گفتگو کشمیر میں فارن فنڈڈ تنظیم مہاجرین نشستوں پر بلیک میل کر رہی ہے: خواجہ آصف پاکستان سفارتی محاذ پر اہم کامیابیاں حاصل کر رہا ہے، رانا قاسم نون پنجاب کابینہ نے 5850 ارب روپے کے بجٹ کی منظوری دے دی اتحاد بین المسلمین پنجاب کمیٹی کا محرم میں امن وامان، بین المسالک ہم آہنگی پر اتفاق سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہمارا 2 رکنی بنچ ہی کافی ہے: وفاقی آئینی عدالت وزیراعظم کی گلگت میں شمسی توانائی منصوبہ جلد ازجلد مکمل کرنے کی ہدایت ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کا سوڈان میں خوراک کے بدلے جنسی زیادتی کا اعتراف توانائی بحران برقرار، سپلائی چین کا تعطل ختم ہونے میں وقت لگے گا: آئی ایم ایف محسن نقوی کی حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات، خطے کی موجودہ صورتحال پر گفتگو امریکی عزم کو جانچنے کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے: ایرانی صدر

منہ میں رام رام اور بغل میں چھری والا سسٹم نہیں ہونا چاہیئے,چیئرمین پی ٹی آئی

Web Desk

16 June 2026

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے داہگل ناکہ پر میڈیا سے اہم گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش خوش آئند ہے، لیکن یہ پیشکش محض زبانی جمع خرچ نہیں ہونی چاہئے۔ انہوں نے زور دیا کہ وزیراعظم کو خود چل کر آنا چاہئے، کیونکہ ابھی تک انہوں نے ہمارے اپوزیشن لیڈر سے ہاتھ تک نہیں ملایا اور نہ ہی نیک نیتی سے ہاتھ آگے بڑھایا ہے، اس لیے اب ’منہ میں رام رام اور بغل میں چھری‘ والا سسٹم نہیں چلنا چاہئے۔ بیرسٹر گوہر نے سوال اٹھایا کہ آپ وزیراعظم ہیں، آپ کے ہاتھ میں ایٹمی بٹن ہے لیکن آپ ہماری بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک نہیں کروا سکتے؟ یہ انتہائی عجیب بات ہے کہ ہر مرتبہ مقتدر حلقوں سے یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ ’پوچھ کر بتائیں گے‘۔

انہوں نے خیبر پختونخوا کے امور پر بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ کے پی میں صوبائی بجٹ پاس کرنے کے لیے بانی سے ملاقات ہونا قانوناً اور سیاسی طور پر انتہائی ضروری ہے۔ تاہم انہوں نے یقین دلایا کہ صوبائی حکومت کے پاس ایک بہترین معاشی اور قانونی ٹیم موجود ہے، اور کے پی حکومت بجٹ کے حوالے سے وہ تزویراتی اقدامات کرے گی جس سے صوبے کے لیے معاشی مسائل پیدا نہ ہوں۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بجٹ کے معاملے پر مجھے اپنی صوبائی حکومت، وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور قانونی ٹیم پر پورا اعتماد ہے کہ وہ بہتر کریں گے۔ کے پی اسمبلی کے اندرونی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ صوبے میں جن اراکینِ اسمبلی (ایم پی ایز) کے تحفظات ہیں، ان کو تفصیل سے سن کر دور کیا جائے گا، وہاں کوئی فارورڈ بلاک نہیں بن رہا اور نہ ہی کوئی وزارتِ اعلیٰ کا نیا امیدوار ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ بانی پی ٹی آئی کی پوری تزویراتی حمایت سہیل آفریدی کو حاصل ہے۔

بین الاقوامی اور ملکی صورتحال کا موازنہ کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی نے تجویز دی کہ ایران اور امریکہ کے مابین طے پانے والے حالیہ تاریخی امن معاہدے کی طرح ہمیں خود پاکستان کے اندر بھی تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ایک گرینڈ ایم او یو سائن کرنا چاہئے۔ ہمیں ملکی جمہوریت، آئین، معیشت کی بحالی اور عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھی ایک قومی معاہدہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے ایران امریکہ ثالثی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں دلی خوشی ہے کہ پاکستان نے دونوں ممالک کے مابین ثالثی میں ایک مخلص اور اچھا کردار ادا کیا ہے، اور جس جس نے بھی اس امن معاہدے میں کردار ادا کیا، ہم ان سب کو دل سے سراہتے ہیں کیونکہ اس معاہدے سے مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن آئے گا۔ بیرسٹر گوہر نے حکمرانوں کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہا کہ جس طرح ہم دنیا میں امن لانے کے لیے تزویراتی کردار ادا کر رہے ہیں، اسی طرح ہمیں اپنے ملک کے اندرونی حالات ٹھیک کرنے کے لیے بھی کردار ادا کرنا ہوگا، کیونکہ اگر آپ اپنے ملک میں امن قائم نہیں کر سکتے تو پھر آپ دنیا کے لیے کیا خاک کردار ادا کریں گے۔

سیاسی اتحاد اور پارلیمانی امور پر بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے قومی اسمبلی میں بانی پی ٹی آئی کے حق میں ایک بہت اچھا اور جاندار بیان دیا ہے، وہ ایک انتہائی زیرک اور منجھے ہوئے سیاستدان ہیں اور میں ان کا مشکور ہوں کہ انہوں نے اس مشکل وقت میں بانی کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی۔

انہوں نے اڈیالہ جیل کے باہر صورتحال پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہم وہاں کوئی سیاسی پاور شو نہیں کرنا چاہتے، لوگ صرف بانی سے اظہارِ یکجہتی کے لیے آتے ہیں اور پرامن احتجاج کرنا ہمارا آئینی و جمہوری حق ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پورے 245 دن ہو گئے ہیں لیکن ہماری بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کرائی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون کے تحت ایک سزایافتہ دہشت گرد کا بھی یہ بنیادی حق ہوتا ہے کہ اس کی فیملی سے ملاقات کروائی جائے، جبکہ اتنے بڑے مقبول عوامی لیڈر کی ملاقاتیں مکمل طور پر روکنا سراسر غیر انسانی سلوک ہے جو اب فوری ختم ہونا چاہئے۔

پریس کانفرنس کے آخر میں انہوں نے تحریکِ انصاف کا مختصر اور دوٹوک مطالبہ سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو فوری طور پر راولپنڈی جیل سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے اور ان کے ذاتی معالجین (ڈاکٹرز) کو ان تک فوری رسائی دی جائے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ تین انجکشنز کے بعد سرکاری ڈاکٹروں نے بریف کیا تھا کہ اب مزید انجکشنز کی ضرورت نہیں، لیکن اس کے باوجود بانی کو اب چوتھا اور پانچواں انجکشن بھی لگا دیا گیا ہے جو تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے پی کے درمیان ہونے والی حالیہ ملاقات کی اندرونی تفصیلات کا علم نہیں۔ بیرسٹر گوہر نے معاشی حقائق بتاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 5 سال سے پاکستان کی اکنامک گروتھ ریٹ محض 2.7 فیصد پر رکی ہوئی ہے، اس لیے ملک میں سیاسی استحکام لانا ہوگا کیونکہ سیاسی استحکام کے ساتھ ہی معاشی استحکام آئے گا اور ملک کا دفاع مضبوط ہوگا، لہذا سیاست میں جاری اس شدید تناؤ کو اب کسی نہ کسی مرحلے پر لازماً ختم ہونا چاہئے۔