LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان اور کویت کے درمیان ‘پروٹوکول معاہدہ 2026’ پر دستخط بلوچستان کی صورتحال بارے دفاعی جائزہ اجلاس، سیف سٹی پروجیکٹ فعال کرنے کا فیصلہ وزیر خزانہ سے اسیاڈ گروپ کے وفد کی ملاقات، پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کا عزم فیلڈ مارشل عاصم منیر سے کویت کے اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات، دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال یوکرین میں غیر ملکی فوجی دستے روس کے جائز فوجی اہداف بنیں گے، ماریہ زخارووا شاہ غلام قادر، راجہ فاروق حیدر نے بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزیراعظم نامزد کرنے کا فیصلہ مسترد کر دیا وزیر داخلہ کا نادرا میگا سینٹر میں پاسپورٹ آفس کی سہولت مہیا کرنے کا اعلان پاکستانی طالبات کیلئے بڑی خوشخبری، ٹیوشن فیس اور ہاسٹل سمیت اسکالرشپ کا اعلان پمز ہسپتال کے واقعے نے قوم کو غم میں مبتلا کر دیا: حافظ نعیم الرحمٰن بانی پی ٹی آئی کی شفا انٹرنیشنل منتقلی کا معاملہ: عظمیٰ خان کی توہینِ عدالت کی فوری سماعت کے لیے نئی درخواست دائر پمز حادثہ انتہائی دل خراش، کیٹی بندر پر ڈیپ سی پورٹ بنانا شہید بینظیر بھٹو کا خواب تھا: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے وفاقی وزیر صحت سے استعفے کا مطالبہ کردیا سانحہ پمز کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست دائر دو سال سے زائد عرصے میں ٹرائل شروع نہ ہوسکا، قتل کیس کے ملزم کو ضمانت مل گئی امریکا، ایران کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں: دفتر خارجہ

میڈیا انڈسٹری کو درپیش مالی مشکلات کے حل کیلئے مل کر کام کرنا ہوگا: عطا تارڑ

Web Desk

11 June 2026

اسلام آباد: وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے الیکٹرانک میڈیا کی معاشی مضبوطی اور میڈیا ورکرز کے حقوق و تحفظ کو ایک اہم قومی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انڈسٹری کو درپیش موجودہ مالی مشکلات کے مستقل حل کے لیے حکومت اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک پیج پر آکر مل کر کام کرنا ہوگا۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ الیکٹرانک میڈیا قومی مفاد، عوامی آگاہی اور جمہوری عمل میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، اس لیے اس کی بقا اور استحکام کے لیے مشترکہ اور ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں۔

قومی اسمبلی میں وفاقی وزیرِ اطلاعات کی تقریر کے اہم اور بنیادی نکات درج ذیل ہیںعطا اللہ تارڑ نے ایوان کو بتایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے اشتہارات کی تقسیم ٹی وی چینلز کی باقاعدہ ریٹنگ کے مطابق کی جاتی ہے۔ اسی میرٹ پر ٹاپ، مڈ اور تھرڈ ٹیئر (Tier) چینلز کو فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ سابق دورِ حکومت میں ٹی وی چینلز کے اشتہاری ریٹس میں اچانک کمی کی گئی، جس کے شدید منفی اثرات پوری انڈسٹری پر پڑے۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ پولیو، انسدادِ دہشت گردی، موسمیاتی تبدیلی (Climate Change) اور ڈیجیٹل والٹ جیسے قومی و عوامی نوعیت کے حساس موضوعات پر آگاہی مہمات چلانا حکومت کی بنیادی آئینی ذمہ داری ہے۔

 وزیرِ اطلاعات نے تسلیم کیا کہ اینکرز اور نچلے درجے کے میڈیا ملازمین کی تنخواہوں میں بہت بڑا فرق کاروباری ماڈل (Business Model) سے جڑا ہے، تاہم اس کی آڑ میں فیلڈ رپورٹرز اور دیگر تکنیکی عملے کے بنیادی حقوق کسی صورت متاثر نہیں ہونے چاہئیں۔ دورانِ ملازمت انتقال کر جانے والے میڈیا ورکرز کے لیے انہوں نے ایک نئی فلاحی پالیسی متعارف کرانے کی تجویز پیش کی، جس کے تحت چینلز مالکان ایسے ملازمین کے سوگوار اہل خانہ کے لیے مالی پیکج اور ان کے بچوں کی مکمل کفالت کا نظام وضع کرنے کے پابند ہوں گے۔ انہوں نے باقاعدہ اعلان کیا کہ پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن (PBA) کے ساتھ شیڈول خصوصی اجلاس میں میڈیا ملازمین کی تنخواہوں کی بروقت ادائیگی اور دیگر بنیادی سہولیات کا معاملہ حکومت کی جانب سے بھرپور انداز میں اٹھایا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فیفا ورلڈ کپ (FIFA World Cup) میں پاکستان، خصوصاً سیالکوٹ کی تیار کردہ فٹبالز کا عالمی سطح پر استعمال ہونا پورے ملک کے لیے ایک تاریخی اعزاز ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شدید محدود مالی وسائل کے باوجود پی ٹی وی اسپورٹس (PTV Sports) نے ورلڈ کپ کے باقاعدہ نشریاتی حقوق حاصل کیے تاکہ ملکی نوجوانوں کو عالمی کھیلوں کی لائیو نشریات تک مفت رسائی مل سکے۔ انہوں نے افواہوں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ سرکاری ٹی وی (PTV) اس وقت کسی قسم کے مالی بحران کا شکار نہیں ہے۔

“بطور وزیرِ اطلاعات میں ذاتی طور پر بونس یا اضافی اعزازیہ دینے کے حق میں نہیں ہوں کیونکہ یہ عوام کا ٹیکس کا پیسہ ہے، تاہم اگر پی ٹی وی کے اندر بڑے افسران کو بجٹ اعزازیہ دیا گیا ہے تو نچلے درجے کے ورکرز کو بھی اس سے محروم نہیں رکھا جائے گا۔ قومی اسمبلی کے میڈیا ونگ کی کارکردگی رپورٹ کی بنیاد پر اس کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔” سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کے حالیہ بائیکاٹ پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ سینیٹر علی ظفر کی سربراہی میں کمیٹی کی رہنمائی ہمیشہ قابلِ قدر رہی ہے اور ایوان میں ان کی عدم موجودگی کو شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن اور میڈیا ہاؤسز پر زور دیا کہ میڈیا کے محاذ پر جاری داخلی تقسیم کو ختم کر کے ملک و قوم کی خاطر ایک مشترکہ اور پائیدار لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔