میڈیا انڈسٹری کو درپیش مالی مشکلات کے حل کیلئے مل کر کام کرنا ہوگا: عطا تارڑ
Web Desk
11 June 2026
اسلام آباد: وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے الیکٹرانک میڈیا کی معاشی مضبوطی اور میڈیا ورکرز کے حقوق و تحفظ کو ایک اہم قومی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انڈسٹری کو درپیش موجودہ مالی مشکلات کے مستقل حل کے لیے حکومت اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک پیج پر آکر مل کر کام کرنا ہوگا۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ الیکٹرانک میڈیا قومی مفاد، عوامی آگاہی اور جمہوری عمل میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، اس لیے اس کی بقا اور استحکام کے لیے مشترکہ اور ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں۔
قومی اسمبلی میں وفاقی وزیرِ اطلاعات کی تقریر کے اہم اور بنیادی نکات درج ذیل ہیںعطا اللہ تارڑ نے ایوان کو بتایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے اشتہارات کی تقسیم ٹی وی چینلز کی باقاعدہ ریٹنگ کے مطابق کی جاتی ہے۔ اسی میرٹ پر ٹاپ، مڈ اور تھرڈ ٹیئر (Tier) چینلز کو فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ سابق دورِ حکومت میں ٹی وی چینلز کے اشتہاری ریٹس میں اچانک کمی کی گئی، جس کے شدید منفی اثرات پوری انڈسٹری پر پڑے۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ پولیو، انسدادِ دہشت گردی، موسمیاتی تبدیلی (Climate Change) اور ڈیجیٹل والٹ جیسے قومی و عوامی نوعیت کے حساس موضوعات پر آگاہی مہمات چلانا حکومت کی بنیادی آئینی ذمہ داری ہے۔
وزیرِ اطلاعات نے تسلیم کیا کہ اینکرز اور نچلے درجے کے میڈیا ملازمین کی تنخواہوں میں بہت بڑا فرق کاروباری ماڈل (Business Model) سے جڑا ہے، تاہم اس کی آڑ میں فیلڈ رپورٹرز اور دیگر تکنیکی عملے کے بنیادی حقوق کسی صورت متاثر نہیں ہونے چاہئیں۔ دورانِ ملازمت انتقال کر جانے والے میڈیا ورکرز کے لیے انہوں نے ایک نئی فلاحی پالیسی متعارف کرانے کی تجویز پیش کی، جس کے تحت چینلز مالکان ایسے ملازمین کے سوگوار اہل خانہ کے لیے مالی پیکج اور ان کے بچوں کی مکمل کفالت کا نظام وضع کرنے کے پابند ہوں گے۔ انہوں نے باقاعدہ اعلان کیا کہ پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن (PBA) کے ساتھ شیڈول خصوصی اجلاس میں میڈیا ملازمین کی تنخواہوں کی بروقت ادائیگی اور دیگر بنیادی سہولیات کا معاملہ حکومت کی جانب سے بھرپور انداز میں اٹھایا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فیفا ورلڈ کپ (FIFA World Cup) میں پاکستان، خصوصاً سیالکوٹ کی تیار کردہ فٹبالز کا عالمی سطح پر استعمال ہونا پورے ملک کے لیے ایک تاریخی اعزاز ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شدید محدود مالی وسائل کے باوجود پی ٹی وی اسپورٹس (PTV Sports) نے ورلڈ کپ کے باقاعدہ نشریاتی حقوق حاصل کیے تاکہ ملکی نوجوانوں کو عالمی کھیلوں کی لائیو نشریات تک مفت رسائی مل سکے۔ انہوں نے افواہوں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ سرکاری ٹی وی (PTV) اس وقت کسی قسم کے مالی بحران کا شکار نہیں ہے۔
“بطور وزیرِ اطلاعات میں ذاتی طور پر بونس یا اضافی اعزازیہ دینے کے حق میں نہیں ہوں کیونکہ یہ عوام کا ٹیکس کا پیسہ ہے، تاہم اگر پی ٹی وی کے اندر بڑے افسران کو بجٹ اعزازیہ دیا گیا ہے تو نچلے درجے کے ورکرز کو بھی اس سے محروم نہیں رکھا جائے گا۔ قومی اسمبلی کے میڈیا ونگ کی کارکردگی رپورٹ کی بنیاد پر اس کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔” سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کے حالیہ بائیکاٹ پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ سینیٹر علی ظفر کی سربراہی میں کمیٹی کی رہنمائی ہمیشہ قابلِ قدر رہی ہے اور ایوان میں ان کی عدم موجودگی کو شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن اور میڈیا ہاؤسز پر زور دیا کہ میڈیا کے محاذ پر جاری داخلی تقسیم کو ختم کر کے ملک و قوم کی خاطر ایک مشترکہ اور پائیدار لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔
متعلقہ عنوانات
سان ڈیاگو سانحہ: متاثرہ مسلم کمیونٹی سے یکجہتی، آئی سی این اے ریلیف قیادت کا دورہ
11 June 2026
کشمیر میں نہتے نوجوانوں کو شہید کیا گیا، ریاست کہاں جارہی ہے؟ سلمان اکرم راجہ
11 June 2026
اقتصادی سروے میں غربت بڑھنے کا انکشاف، بلوچستان سب سے متاثرہ صوبہ
11 June 2026
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرِ صدارت سپریم جوڈیشل کونسل کا اہم اجلاس؛ ججز کے ضابطہ اخلاق میں ترامیم کا فیصلہ
11 June 2026
پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن کا بیٹھک؛ پی ٹی آئی اور اتحادی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس
11 June 2026
قومی اقتصادی سروے پیش، کئی شعبوں میں معاشی اہداف حاصل نہ ہو سکے
11 June 2026
وفاقی حکومت کا کراچی حیدرآباد موٹر وے کی اازسرنو تعمیر کا فیصلہ
11 June 2026
تحریکِ انصاف کا اندرونی اختلاف کھل کر سامنے آگیا؛ جنرل سیکرٹری کے اعلامیے پر علی امین گنڈاپور کی مبینہ آڈیو لیک
11 June 2026