ڈیجیٹل جنگ جاری، نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی: جمال رئیسانی
Web Desk
3 June 2026
کوئٹہ: پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کے رکنِ قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف اس وقت ایک ‘خاموش جنگ’ لڑی جا رہی ہے، جس میں روایتی بارود یا ہتھیاروں سے زیادہ ہمارے نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں صوبائی وزراء علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ ایک اہم اور ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے جمال رئیسانی نے ملک اور بالخصوص بلوچستان کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کے امن کو مستقل نقصان پہنچانا چاہتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ موجودہ دور کی جنگ اب بڑی حد تک ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور سائبر اسپیس پر منتقل ہو چکی ہے۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے پریس کانفرنس کے دوران کالعدم تنظیموں کے جدید طریقہ کار اور نیٹ ورکس کو بے نقاب کرتے ہوئے بتایاکالعدم تنظیمیں مختلف جدید موبائل ایپلی کیشنز کے ذریعے آپس میں رابطے، تخریبی کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور معصوم نوجوانوں کی بھرتیوں کا عمل بلا روک ٹوک جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آج دشمن صرف ہتھیاروں کے بل بوتے پر نہیں، بلکہ سوشل میڈیا مہمات، جعلی پروپیگنڈے اور منظم ٹرینڈز کے ذریعے ریاست کے خلاف اپنے ناپاک مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ بعض کالعدم تنظیموں نے اب اپنی تخریبی سرگرمیوں میں خواتین کو بھی باقاعدہ شامل کرنا شروع کر دیا ہے۔
جمال رئیسانی نے پریس کانفرنس میں بعض مخصوص ناموں اور نیٹ ورکس کا حوالہ دیتے ہوئے اہم دعوے کیے انہوں نے بتایا کہ شہناز بلوچ نامی خاتون ‘بلوچ یکجہتی کمیٹی’ کے جلسوں میں جایا کرتی تھیں، اور بعد میں شہناز بلوچ کا ‘باہوٹ’ کے ذریعے ایک کالعدم تنظیم سے باقاعدہ رابطہ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت اس وقت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں، جبکہ ڈاکٹر صبیحہ کا اپنا سگا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا سرگرم حصہ ہے۔دوسری جانب بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کے ہاتھ میں ہے۔
پی پی پی کے رکنِ قومی اسمبلی نے واشگاف الفاظ میں عزم ظاہر کیا کہ وہ کسی بھی قیمت پر بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور صوبے کے معصوم نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی ہر بیرونی و اندرونی کوشش کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔
انہوں نے متعلقہ سیکیورٹی اور وفاقی اداروں سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ ان تمام سنگین معاملات اور ڈیجیٹل نیٹ ورکس کا باریک بینی سے جائزہ لیں۔ جمال رئیسانی نے آخر میں کہا کہ وہ ہرگز نہیں چاہتے کہ بلوچستان کا مستقبل اور یہاں کے نوجوان شدت پسندی کی دلدل میں پھنسیں یا پہاڑوں کا رخ کریں؛ بلکہ حکومت اور ریاست کی یہ اولین ترجیح ہونی چاہیے کہ ان نوجوانوں کو مثبت سرگرمیاں، جدید تعلیم اور صوبے کی ترقی کے برابر مواقع فراہم کیے جائیں۔
متعلقہ عنوانات
گلگت بلتستان میں 22 سال بعد بلدیاتی انتخابات کا بگل بج گیا؛ 2 اگست کو پولنگ ہوگی، چیف الیکشن کمشنر نے شیڈول جاری کر دیا
3 June 2026
موٹر وے اجتماعی زیادتی کیس: مجرم عابد اور شفقت بگا کی سزا کیخلاف اپیلیں خارج
3 June 2026
امریکا کی کئی ممالک پر نئے ٹیرف کی تجویز، پاکستان بھی شامل
3 June 2026
وفاقی بجٹ میں کے پی کے لیے کچھ نہیں، بانی پی ٹی آئی سے مشاورت ضروری ہے
3 June 2026
بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے ہر ممکن اقدامات شامل کئے جا رہے ہیں: وزیراعظم
3 June 2026
فارن فنڈنگ کیس: چالان کی اسکروٹنی مکمل، بینکنگ کورٹ نے بانی پی ٹی آئی و دیگر کے خلاف سماعت 11 جون تک ملتوی کر دی
3 June 2026
گلگت بلتستان انتخابات کی سیکیورٹی: وزارتِ داخلہ کا اسلام آباد سے 1 ہزار پولیس اہلکار بھیجنے کا فیصلہ
3 June 2026
وکلا کی ہڑتالیں سائلین کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہیں”: وفاقی آئینی عدالت
3 June 2026