LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
گلگت بلتستان میں 22 سال بعد بلدیاتی انتخابات کا بگل بج گیا؛ 2 اگست کو پولنگ ہوگی، چیف الیکشن کمشنر نے شیڈول جاری کر دیا امریکا کی کئی ممالک پر نئے ٹیرف کی تجویز، پاکستان بھی شامل بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے ہر ممکن اقدامات شامل کئے جا رہے ہیں: وزیراعظم ڈیجیٹل جنگ جاری، نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی: جمال رئیسانی وکلا کی ہڑتالیں سائلین کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہیں”: وفاقی آئینی عدالت توانائی بچت مہم، وزیراعظم نے نئے کاروباری اوقات کی منظوری دیدی ایران امریکہ جنگ: پاکستان کی خلیجی ممالک کیلئے برآمدات بری طرح متاثر ایرانی سپریم لیڈر کے مذاکرات میں اپنی سرگرمیاں بڑھانے کے اشارے ملے ہیں: روبیو امریکا اور ایران کے صبح سویرے پھر حملے، دونوں ممالک کا فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں ٹریڈنگ کا منفی زون میں آغاز امریکی صدر کا غیر قانونی امیگریشن، مالیاتی فراڈ کیخلاف نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری لندن میں طالبعلم کے قتل پر احتجاج، پولیس اور مظاہرین میں شدید جھڑپیں بنگلہ دیش کے وزیرخارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمٰن اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے صدر منتخب گلگت بلتستان انتخابات:پی ٹی آئی کے سوا باقی جماعتوں کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان “ایل نینو”کا خطرہ : دنیا کو شدید موسم سے نمٹنے کیلئےاقدامات کرنے ہوں گے، اقوام متحدہ

ایرانی سپریم لیڈر کے مذاکرات میں اپنی سرگرمیاں بڑھانے کے اشارے ملے ہیں: روبیو

Web Desk

3 June 2026

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں میں ایسے واضح اشارے ملے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر اب زیادہ فعال (ایکٹو) کردار ادا کر رہے ہیں اور مذاکرات کے عمل میں انہوں نے اپنی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں۔

عرب نشریاتی ادارے ‘الجزیرہ’ کے مطابق، امریکی قانون سازوں سے اہم گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے ‘آبنائے ہرمز’ کو جہاز رانی کے لیے کھولنا پہلی اور بنیادی شرط ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران افزودہ یورینیم سے دستبردار ہو جاتا ہے اور اپنے جوہری پروگرام سے متعلق دیگر اہم معاملات کو طے کرنے پر رضا مند ہوتا ہے، تو اس کے بعد ہی اس پر عائد اقتصادی پابندیوں میں نرمی لائی جا سکتی ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ نے جاری سفارتی عمل کے حوالے سے بعض اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالی مارکو روبیو کے مطابق، ایران کے ساتھ موجودہ بات چیت میں جوہری پروگرام کے ایسے پہلو اور شقیں بھی زیرِ بحث آ سکتی ہیں جن پر تہران ماضی میں کسی بھی قسم کی گفتگو کرنے سے صاف انکار کرتا رہا ہے۔امریکی انتظامیہ یہ دیکھ رہی ہے کہ ایران کے روایتی مؤقف میں اب بعض مخصوص معاملات پر بات چیت کے حوالے سے ممکنہ لچک دیکھی جا رہی ہے

ایرانی رویے میں تبدیلی کے باوجود، امریکی وزیرِ خارجہ نے کسی بھی حتمی نتیجے پر پہنچنے کے حوالے سے محتاط انداز اپنایا ہے:

“اس بات کی کوئی بھی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ ایران کے ساتھ جاری یہ مذاکرات بالآخر کسی ایسے حتمی معاہدے پر منتج ہوں گے جو امریکا کے لیے مکمل طور پر قابلِ قبول ہو۔ کسی بھی حتمی اور پائیدار معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کے بارے میں ابھی کوئی یقین دہانی نہیں کرائی جا سکتی۔”

جغرافیائی سیاسی ماہرین کے مطابق، خطے میں جاری حالیہ فوجی کشیدگی کے بعد امریکی وزیرِ خارجہ کا یہ بیان انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ پسِ پردہ سفارتی چینلز اب بھی متحرک ہیں۔