LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران، امریکا کے درمیان جنگ بندی ختم ، مذاکرات کا راستہ اب بھی کھلا ہے: میڈیا رپورٹ امریکی فوج کے ایران پر تیسرے روز بھی فضائی حملے، کئی شہروں میں دھماکے خواجہ محمد آصف نے فضل الرحمان کے بیان کو اخلاقی بے حسی قرار دیدیا امریکی بحری جہاز کو کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا: ایران امریکی فوج نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی تصدیق کر دی محمود احمدی نژاد اسرائیل کے رجیم چینج کے منصوبے کا حصہ تھے: امریکی اخبار کا دعویٰ عون چودھری کا فضل الرحمان سے شہدا کے لواحقین اور پوری قوم سے معافی مانگنے کا مطالبہ قومی اتحاد، یکجہتی، اداروں کا احترام ملکی استحکام کیلئے ناگزیر ہے: سپیکر پنجاب اسمبلی نیویارک والدین کے لیے پہلی بار مفت “پیرنٹس نائٹ آؤٹ” پروگرام کا آغاز، بچے تفریحی مراکز میں چھوڑنے کی سہولت واشنگٹن: وزیر داخلہ محسن نقوی کی ایف بی آئی ہیڈکوارٹرز میں ڈائریکٹر کاش پٹیل سے اہم ملاقات، سیکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق ایبٹ آباد: بیکری میں آگ لگنے سے جھلسنے والے 3 مزدور دم توڑ گئے یو اے ای میں امریکی سفارتخانے نے سکیورٹی صورتحال کے باعث قونصلر اپائنٹمنٹس منسوخ کر دیں امریکی صدر ٹرمپ کا ایران پر مزید شدید حملوں کا اعلان یورپی یونین کا غزہ کی بحالی کیلیے ایک ارب ڈالر فنڈ کا اعلان خلیجی ملک نے نقد ادائیگیوں سے متعلق بڑی پابندی لگا دی

امریکا کو خطے میں مزید اڈے قائم کرنے کا موقع نہیں ملے گا: مجتبیٰ خامنہ ای

Web Desk

26 May 2026

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے مسلم امہ کے عظیم سالانہ اجتماع ‘حج’ کے مبارک موقع پر عالمی استعمار اور صیہونی طاقتوں کے خلاف ایک انتہائی سخت اور دو ٹوک پیغام جاری کیا ہے۔ اپنے پیغام میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ امریکا اب خطے میں نئے فوجی اڈے قائم کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکے گا اور خلیجی طاقتیں اب امریکی افواج کے لیے ڈھال کا کردار ادا نہیں کریں گی۔

یہ اہم ترین بیان ایک ایسے نازک موڑ پر سامنے آیا ہے جب تہران اور واشنگٹن اپنے گزشتہ تین ماہ سے جاری شدید تنازع اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک سفارتی فریم ورک پر پسِ پردہ بات چیت کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے رواں سال مارچ میں اپنے والد اور سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی امریکا اور اسرائیل کے فضائی حملوں میں شہادت کے بعد ایران کی قیادت سنبھالی تھی، اور وہ اب تک عوامی طور پر منظرِ عام پر نہیں آئے ہیں۔

ایرانی سپریم لیڈر نے اپنے پیغام میں “اللہ اکبر” کے نعرے کو مسلم امہ کا اصل ہتھیار قرار دیتے ہوئے کہا:

“اللہ اکبر کا نعرہ وہ طاقتور ہتھیار ہے جس نے امتِ مسلمہ اور مزاحمتی محاذ کے مجاہد نوجوانوں کے دلوں کو آپس میں جوڑ دیا ہے۔ یہ نظریاتی اتحاد اب صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ لبنان، فلسطین، عراق، شام، افریقا اور یمن سے ہوتا ہوا پاکستان اور دنیا کی تمام آزادی پسند اقوام تک پھیل چکا ہے۔”

آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وقت کا پہیہ اب پیچھے نہیں گھوم سکتا۔ خطے میں صیہونی نظام (اسرائیل) اپنے کمزور ترین اور اختتامی مراحل میں داخل ہو چکا ہے جبکہ ایرانی انقلاب نے بیرونی قوتوں کے اثر و رسوخ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے۔

امریکی بالادستی کو للکارتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دشمن کو تباہ کن جوابی حملوں سے بالکل بے بس کر دیا گیا ہے، اور امریکی جارحیت کے سامنے ہتھیار نہ ڈال کر ایران نے سپر پاور کے منہ پر ایک زوردار تھپڑ رسید کیا ہے۔ ایران اور لبنان میں حاصل ہونے والی شاندار فتوحات اسی ایمانی جذبے کا نتیجہ ہیں۔

سپریم لیڈر نے دنیا بھر کے مسلم ممالک پر زور دیا کہ وہ بیرونی دباؤ اور ڈکٹیشن سے آزاد ہو کر اپنا خودمختار کردار ادا کریں کیونکہ خطے کی اقوام اب اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک مشترکہ اور نئی “اسلامی تہذیب” کا قیام تمام مسلم ممالک کا واحد ہدف ہونا چاہیے۔

اپنے پیغام کے آخر میں انہوں نے عازمینِ حج سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہر مسلمان کا یہ اولین فرض ہے کہ وہ اسلام کے روشن مستقبل کے لیے اپنا حصہ ڈالے، اور اسی جذبے کے تحت اس سال حج کے موقع پر ہر کلمہ گو مسلمان کی زبان پر “مرگ بر امریکا” اور “مرگ بر اسرائیل” کا نعرہ ہونا چاہیے