LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کی امید، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا زبردست تیزی پر اختتام سوئی گیس کا عید الاضحیٰ کے لیے نیا شیڈول جاری، صارفین کو سہولت دینے کا اعلان پاکستان میں گردشی قرض، غربت اور بے روزگاری میں اضافہ پٹرول پر مقررہ ہدف سے زیادہ لیوی وصول کی جا رہی ہے، قائمہ کمیٹی میں انکشاف رضوان کی کپتانی میں ٹیم بہتر نتائج نہ دے سکی، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن امریکا ایران امن معاہدے کی توقع؛ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں بڑی کمی امریکی صدر کا سعودی عرب، قطر اور پاکستان سمیت مسلم ممالک سے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کا مطالبہ 2سال میں پیٹرولیم لیوی سے 2 ہزار 725 ارب وصول، رقم آئی ایم ایف کے 2 قرض پروگراموں سے بھی زیادہ نکلی پاکستان کی پہلی شیڈو پالیسی دستاویزات جاری، نجی شعبے کی ترقی پر زور فیلڈ مارشل نے مذاکرات نتیجہ خیز بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا: امریکی ٹی وی اسلام آباد: وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی 15 دستاویزات پر دستخط امریکا کے ساتھ فریم ورک پر پہنچ گئے، وفد ابھی پاکستان بھیجنے کا ارادہ نہیں: ایران پاکستان اور چین کا قومی مفادات پر ایک دوسرے کی مکمل حمایت کا اعلان ٹانک: چیسن کچ میں دہشت گردی، نامعلوم افراد نے مڈل اسکول اور بنیادی ہیلتھ مرکز (BHU) کو دھماکے سے اڑا دیا

پٹرول پر مقررہ ہدف سے زیادہ لیوی وصول کی جا رہی ہے، قائمہ کمیٹی میں انکشاف

Web Desk

25 May 2026

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حکومت پٹرول اور ڈیزل پر عالمی مالیاتی ادارے کی مقررہ حد سے زیادہ لیوی وصول کر رہی ہے۔

کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے اجلاس کے دوران بتایا کہ عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے پٹرول پر 80 روپے لیوی کا ہدف دیا گیا تھا تاہم حکومت اس وقت 117 روپے تک وصول کر رہی ہے۔

کمیٹی کے رکن جاوید حنیف خان نے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل دونوں پر مجموعی طور پر 160 روپے لیوی وصولی کا ہدف مقرر تھا، جسے پورا کرنے کے لیے پٹرول پر زیادہ اور ڈیزل پر نسبتاً کم لیوی عائد کی گئی ہے۔

اجلاس میں حکومت کی نئی موبائل سازی پالیسی پر بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ نئی پالیسی کا مقصد ملک سے ڈالر کے اخراج کو کم کرنا ہے۔

تاہم قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سید نوید قمر نے کہا کہ موبائل فون کے پرزہ جات کی درآمد کے باعث اب بھی بڑی مقدار میں ڈالر بیرون ملک جا رہے ہیں۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ کاربن لیوی کی مد میں اب تک 37 ارب روپے جمع کیے جا چکے ہیں جن میں سے 9 ارب روپے برقی گاڑیوں کے لیے سبسڈی کی صورت میں فراہم کیے گئے۔

بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ رواں سال اب تک صرف 50 برقی چارجنگ مراکز قائم کیے جا سکے ہیں جبکہ سال بھر کے لیے 240 مراکز کا ہدف مقرر تھا۔