LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا میڈیا کے ذریعے توانائی مارکیٹ میں ہیرا پھیری کر رہا ہے، عباس عراقچی کیف کے قریب روسی ڈرون حملہ، گولہ بارود ڈپو میں دھماکہ، 37 افراد ہلاک ایران کا امریکا اسرائیل سے منسلک دہشتگرد گروپ کے 6 ارکان کی گرفتاری کا دعویٰ مسلم ممالک سکیورٹی کیلئے بیرونی طاقتوں کی بجائے اپنی صلاحیتوں پر بھروسا کریں، قالیباف فنڈز میں تاخیر، اسرائیلی فوج کا ستمبر سے ریزرو فوج میں کٹوتیوں کا عندیہ یو ایس ایس ابراہم لنکن سے کودنے والے امریکی اہلکار کیخلاف کارروائی، اہلیہ کا ردعمل سامنے آ گیا مسلمانوں کو دیوار کی اینٹوں کی طرح متحد ہونا ہوگا، ترک صدر ایران جنگ نہیں چاہتا، مگر ہر جارح کیخلاف پوری قوت سے کھڑا ہوگا: صدر پزشکیان ایران کا دفاعی صلاحیتیں مزید مضبوط بنانے کا عمل جاری رکھنے کا اعلان جنوبی کوریا میں تمام شہریوں کو مفت اے آئی سروسز ملیں گی ایران کیساتھ جنگ، ٹرمپ کی ساکھ متاثر اور مشرق وسطیٰ میں امریکی پوزیشن کمزور ناظم آباد ہسپتال میں بچے کی پیدائش کے معاملہ کا ڈراپ سین، بڑا انکشاف نومنتخب وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی کی شاہ غلام قادر سے ملاقات پمز واقعہ : وزیراعظم کا 8 ذمہ داران کو فوری معطل کرکے فوجداری کارروائی کا حکم بھارت میں قید 25 پاکستانی شہری وطن واپس پہنچ گئے

پاکستانی حکومت کے ریونیو کا انحصار پیٹرولیم ٹیکسز پر ہے: آئی ایم ایف 

Web Desk

16 May 2026

عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی کمزور ٹیکس وصولیوں اور محدود ٹیکس نیٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صورتحال ملکی معیشت کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔

آئی ایم ایف کے مطابق حکومتی ریونیو کا ایک بڑا حصہ پیٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسز سے حاصل کیا جا رہا ہے، جبکہ مختلف شعبوں کو دی جانے والی ٹیکس چھوٹ مجموعی طور پر جی ڈی پی کے 1.2 فیصد کے برابر ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں صوبائی سطح پر الگ الگ سیلز ٹیکس نظام کے باعث ٹیکس نظام مزید پیچیدہ ہو گیا ہے، جس سے وصولیوں میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔

آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ اگر سیلز ٹیکس کی کارکردگی میں بہتری لا کر اسے 35 فیصد تک پہنچا دیا جائے تو حکومت کو تقریباً 2100 ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہو سکتا ہے۔

ادارے نے زرعی شعبے کی کم ٹیکس ادائیگی پر بھی سوال اٹھایا ہے، جس کا ملکی جی ڈی پی میں حصہ 24.6 فیصد ہے مگر ٹیکس ادائیگی صرف 0.3 فیصد تک محدود ہے۔ 2025 میں زرعی انکم ٹیکس میں اضافے کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔

آئی ایم ایف نے سفارش کی ہے کہ صوبے زرعی ٹیکس کے مؤثر نفاذ کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ڈیٹا کا استعمال کریں۔ ساتھ ہی ٹیکسٹائل، رئیل اسٹیٹ اور کاروباری خدمات کو کم ٹیکس دینے والے شعبوں میں شامل قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں حکومت کو تجویز دی گئی ہے کہ نان فائلرز کے بڑے مالیاتی لین دین پر سخت اقدامات کیے جائیں، نئے ٹیکس دہندگان کو نیٹ میں شامل کیا جائے اور ریٹیل سیکٹر کی رجسٹریشن کو مزید سخت بنایا جائے تاکہ ٹیکس نیٹ میں اضافہ ہو سکے۔

مزید کہا گیا ہے کہ ملک میں ڈیجیٹل انوائسنگ کے نظام کو مرحلہ وار لازمی بنایا جائے اور پیداوار کی نگرانی کے نظام کو بھی مزید مؤثر کیا جائے، جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا نیا آڈٹ مینول اور آڈٹ پالیسی اگست 2026 تک نافذ ہونے کا امکان ہے۔