LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان ریلوے کے ملازمین کے 21 ارب 36 کروڑ روپے واجبات، وزارت ریلوے اور خزانہ آمنے سامنے الیکشن کمیشن آزاد کشمیر کا پی ٹی آئی کی رجسٹریشن مسترد کرنا امتیازی سلوک ہے: بیرسٹر گوہر  پاکستانی حکومت کے ریونیو کا انحصار پیٹرولیم ٹیکسز پر ہے: آئی ایم ایف  پی ٹی آئی آزاد کشمیر کی رجسٹریشن مسترد، تحریک انصاف نے فیصلہ سیاسی انتقام قرار دے دیا جیٹ فیول سستا، کمرشل پروازوں کے کرایوں میں بڑی کمی کا امکان ہمیں قومی بیانیہ مضبوط ، دشمن کی سازش کو ناکام بنانا ہے: فیصل کریم کنڈی سٹی کورٹ؛ یونیورسٹیوں میں منشیات سپلائی کرنے والی ملزمہ انمول عرف پنکی 22 مئی تک پولیس ریمانڈ پر SIU کے حوالے حکومت کا فشریز مصنوعات کی برآمدات میں نمایاں اضافے کا اعلان پانڈا بانڈ کا اجرا پاک چین مالیاتی تعاون کے نئے دور کا آغاز ہے، چینی چینل کو وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کا اہم انٹرویو وزیراعظم کا پُرامن باہمی طرزِ زندگی کے عالمی دن پر انسانی حقوق کے فروغ کا عزم آئی سی سی ویمنز ٹی20 ورلڈ کیلئے پاکستان ٹیم کا اعلان وزیرِ زراعت عاشق کرمانی کی چینی وفد کو مقامی سطح پر زرعی مشینری بنانے کی دعوت پاکستانی فضائی حدود کی بندش، ایئر انڈیا کا سالانہ خسارہ 2 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا ایران امارات اختلافات، برکس اجلاس بغیر کسی نتیجہ کے ختم، مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہو سکا جہاز رانی کی آزادی کی حفاظت ناگزیر، پاکستان کی ثالثی کے حامی ہیں: سعودی عرب

پاکستانی حکومت کے ریونیو کا انحصار پیٹرولیم ٹیکسز پر ہے: آئی ایم ایف 

Web Desk

16 May 2026

عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی کمزور ٹیکس وصولیوں اور محدود ٹیکس نیٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صورتحال ملکی معیشت کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔

آئی ایم ایف کے مطابق حکومتی ریونیو کا ایک بڑا حصہ پیٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسز سے حاصل کیا جا رہا ہے، جبکہ مختلف شعبوں کو دی جانے والی ٹیکس چھوٹ مجموعی طور پر جی ڈی پی کے 1.2 فیصد کے برابر ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں صوبائی سطح پر الگ الگ سیلز ٹیکس نظام کے باعث ٹیکس نظام مزید پیچیدہ ہو گیا ہے، جس سے وصولیوں میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔

آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ اگر سیلز ٹیکس کی کارکردگی میں بہتری لا کر اسے 35 فیصد تک پہنچا دیا جائے تو حکومت کو تقریباً 2100 ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہو سکتا ہے۔

ادارے نے زرعی شعبے کی کم ٹیکس ادائیگی پر بھی سوال اٹھایا ہے، جس کا ملکی جی ڈی پی میں حصہ 24.6 فیصد ہے مگر ٹیکس ادائیگی صرف 0.3 فیصد تک محدود ہے۔ 2025 میں زرعی انکم ٹیکس میں اضافے کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔

آئی ایم ایف نے سفارش کی ہے کہ صوبے زرعی ٹیکس کے مؤثر نفاذ کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ڈیٹا کا استعمال کریں۔ ساتھ ہی ٹیکسٹائل، رئیل اسٹیٹ اور کاروباری خدمات کو کم ٹیکس دینے والے شعبوں میں شامل قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں حکومت کو تجویز دی گئی ہے کہ نان فائلرز کے بڑے مالیاتی لین دین پر سخت اقدامات کیے جائیں، نئے ٹیکس دہندگان کو نیٹ میں شامل کیا جائے اور ریٹیل سیکٹر کی رجسٹریشن کو مزید سخت بنایا جائے تاکہ ٹیکس نیٹ میں اضافہ ہو سکے۔

مزید کہا گیا ہے کہ ملک میں ڈیجیٹل انوائسنگ کے نظام کو مرحلہ وار لازمی بنایا جائے اور پیداوار کی نگرانی کے نظام کو بھی مزید مؤثر کیا جائے، جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا نیا آڈٹ مینول اور آڈٹ پالیسی اگست 2026 تک نافذ ہونے کا امکان ہے۔