LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی ریاست فلوریڈا میں نجی کمپنی کا طیارہ سڑک پرگر کر تباہ، تمام 9 افراد ہلاک کمیونسٹ پارٹی چائنہ کے وزیر تین روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے نوجوانوں کو مواقع فراہم کرنا ترجیح، ملکی ترقی کیلئے کردار ادا کرنا ہوگا: محسن نقوی پاکستان میں جاگیردارانہ جمہوریت اور خاندانی سیاست کی مزید گنجائش نہیں: خالد مقبول صدیقی پوتن نے زیلنسکی سے مذاکرات سے کبھی انکار نہیں کیا، ماسکو آ سکتے ہیں، کریملن اسحاق ڈار کا ازبک وزیر خارجہ سے رابطہ، ایس سی او اجلاس کی تیاریوں پر تبادلہ خیال اسحاق ڈار کا مالدیپ کی وزیر خارجہ سے ٹیلی فونک رابطہ، دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال سوات اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 4.4 ریکارڈ بھارتی پنجاب اسمبلی نے کرتارپور راہداری فوری کھولنے کا مطالبہ کر دیا بھارت میں سکھوں کے بدترین قتلِ عام کو 42 سال بیت گئے افغان طالبان رجیم کی دہشتگردوں کو امریکی اسلحہ فراہمی کے ہوشربا شواہد سامنے آ گئے بلوچستان: متعدد خاندانوں کا دہشتگردی میں ملوث اہلخانہ سے اعلانِ لاتعلقی یمنی فوج کا حوثی ملیشیا کے خلاف آپریشن فجرِالیمن جاری، 427 جنگجو ہلاک پولیس کا رات گئے مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر آنا ہراساں کرنے کی سازش ہے، سیکیورٹی ہٹانے کے احکامات قابلِ مذمت ہیں: مولانا اسجد محمود شرجیل میمن نے متحدہ کی سڑکیں بند کرنے کی دھمکیا ں دہشتگردانہ عمل قرار دیدیں

پاکستانی حکومت کے ریونیو کا انحصار پیٹرولیم ٹیکسز پر ہے: آئی ایم ایف 

Web Desk

16 May 2026

عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی کمزور ٹیکس وصولیوں اور محدود ٹیکس نیٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صورتحال ملکی معیشت کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔

آئی ایم ایف کے مطابق حکومتی ریونیو کا ایک بڑا حصہ پیٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسز سے حاصل کیا جا رہا ہے، جبکہ مختلف شعبوں کو دی جانے والی ٹیکس چھوٹ مجموعی طور پر جی ڈی پی کے 1.2 فیصد کے برابر ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں صوبائی سطح پر الگ الگ سیلز ٹیکس نظام کے باعث ٹیکس نظام مزید پیچیدہ ہو گیا ہے، جس سے وصولیوں میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔

آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ اگر سیلز ٹیکس کی کارکردگی میں بہتری لا کر اسے 35 فیصد تک پہنچا دیا جائے تو حکومت کو تقریباً 2100 ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہو سکتا ہے۔

ادارے نے زرعی شعبے کی کم ٹیکس ادائیگی پر بھی سوال اٹھایا ہے، جس کا ملکی جی ڈی پی میں حصہ 24.6 فیصد ہے مگر ٹیکس ادائیگی صرف 0.3 فیصد تک محدود ہے۔ 2025 میں زرعی انکم ٹیکس میں اضافے کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔

آئی ایم ایف نے سفارش کی ہے کہ صوبے زرعی ٹیکس کے مؤثر نفاذ کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ڈیٹا کا استعمال کریں۔ ساتھ ہی ٹیکسٹائل، رئیل اسٹیٹ اور کاروباری خدمات کو کم ٹیکس دینے والے شعبوں میں شامل قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں حکومت کو تجویز دی گئی ہے کہ نان فائلرز کے بڑے مالیاتی لین دین پر سخت اقدامات کیے جائیں، نئے ٹیکس دہندگان کو نیٹ میں شامل کیا جائے اور ریٹیل سیکٹر کی رجسٹریشن کو مزید سخت بنایا جائے تاکہ ٹیکس نیٹ میں اضافہ ہو سکے۔

مزید کہا گیا ہے کہ ملک میں ڈیجیٹل انوائسنگ کے نظام کو مرحلہ وار لازمی بنایا جائے اور پیداوار کی نگرانی کے نظام کو بھی مزید مؤثر کیا جائے، جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا نیا آڈٹ مینول اور آڈٹ پالیسی اگست 2026 تک نافذ ہونے کا امکان ہے۔