پاکستانی حکومت کے ریونیو کا انحصار پیٹرولیم ٹیکسز پر ہے: آئی ایم ایف
Web Desk
16 May 2026
عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی کمزور ٹیکس وصولیوں اور محدود ٹیکس نیٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صورتحال ملکی معیشت کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق حکومتی ریونیو کا ایک بڑا حصہ پیٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسز سے حاصل کیا جا رہا ہے، جبکہ مختلف شعبوں کو دی جانے والی ٹیکس چھوٹ مجموعی طور پر جی ڈی پی کے 1.2 فیصد کے برابر ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں صوبائی سطح پر الگ الگ سیلز ٹیکس نظام کے باعث ٹیکس نظام مزید پیچیدہ ہو گیا ہے، جس سے وصولیوں میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔
آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ اگر سیلز ٹیکس کی کارکردگی میں بہتری لا کر اسے 35 فیصد تک پہنچا دیا جائے تو حکومت کو تقریباً 2100 ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہو سکتا ہے۔
ادارے نے زرعی شعبے کی کم ٹیکس ادائیگی پر بھی سوال اٹھایا ہے، جس کا ملکی جی ڈی پی میں حصہ 24.6 فیصد ہے مگر ٹیکس ادائیگی صرف 0.3 فیصد تک محدود ہے۔ 2025 میں زرعی انکم ٹیکس میں اضافے کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔
آئی ایم ایف نے سفارش کی ہے کہ صوبے زرعی ٹیکس کے مؤثر نفاذ کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ڈیٹا کا استعمال کریں۔ ساتھ ہی ٹیکسٹائل، رئیل اسٹیٹ اور کاروباری خدمات کو کم ٹیکس دینے والے شعبوں میں شامل قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں حکومت کو تجویز دی گئی ہے کہ نان فائلرز کے بڑے مالیاتی لین دین پر سخت اقدامات کیے جائیں، نئے ٹیکس دہندگان کو نیٹ میں شامل کیا جائے اور ریٹیل سیکٹر کی رجسٹریشن کو مزید سخت بنایا جائے تاکہ ٹیکس نیٹ میں اضافہ ہو سکے۔
مزید کہا گیا ہے کہ ملک میں ڈیجیٹل انوائسنگ کے نظام کو مرحلہ وار لازمی بنایا جائے اور پیداوار کی نگرانی کے نظام کو بھی مزید مؤثر کیا جائے، جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا نیا آڈٹ مینول اور آڈٹ پالیسی اگست 2026 تک نافذ ہونے کا امکان ہے۔
متعلقہ عنوانات
امریکی ریاست فلوریڈا میں نجی کمپنی کا طیارہ سڑک پرگر کر تباہ، تمام 9 افراد ہلاک
1 November 2026
کمیونسٹ پارٹی چائنہ کے وزیر تین روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے
1 November 2026
نوجوانوں کو مواقع فراہم کرنا ترجیح، ملکی ترقی کیلئے کردار ادا کرنا ہوگا: محسن نقوی
1 November 2026
پاکستان میں جاگیردارانہ جمہوریت اور خاندانی سیاست کی مزید گنجائش نہیں: خالد مقبول صدیقی
1 November 2026
پوتن نے زیلنسکی سے مذاکرات سے کبھی انکار نہیں کیا، ماسکو آ سکتے ہیں، کریملن
1 November 2026
اسحاق ڈار کا ازبک وزیر خارجہ سے رابطہ، ایس سی او اجلاس کی تیاریوں پر تبادلہ خیال
1 November 2026
اسحاق ڈار کا مالدیپ کی وزیر خارجہ سے ٹیلی فونک رابطہ، دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال
1 November 2026
سوات اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 4.4 ریکارڈ
1 November 2026